
ہائی کورٹ نے میڈیا رپورٹنگ پر روک لگانے سے کیا انکار
الہ آباد، 9 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مذہب تبدیل کرانے کے الزام میں گرفتار عمر گوتم کو ہائی کورٹ سے بڑا دھچکا لگا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ سے عمر گوتم کو کوئی راحت نہیں ملی۔ ہائی کورٹ نے عمر گوتم کے معاملے میں میڈیا رپورٹنگ پر پابندی کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے عمر گوتم کی درخواست خارج کردی۔ عدالت نے تبصرہ کیا کہ میڈیا کو رپورٹ کرنے کا حق ہے۔ میڈیا کو کسی بھی معاملے پر مضبوط وجہ کے بغیر رپورٹنگ کرنے سے نہیں روکا جاسکتا۔
ہائی کورٹ نے عمر گوتم کیس میں یوپی پولیس کوبھی کلین چٹ دی ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یوپی پولیس کے پریس نوٹ میں کوئی قابل اعتراض نہیں ہے۔ 20 جون کو جاری کردہ پریس نوٹ میں کوئی خفیہ اور قابل اعتراض معلومات نہیں تھی، گرفتاری اور اس کی بنیاد کولے کر صرف معلومات دی گئیں۔ عمر گوتم کی درخواست پر سماعت کے بعد ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے 2 جولائی کو اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔
جسٹس رمیش سنہا اور جسٹس وکاس شریواستو کی ڈویژن بنچ نے فیصلہ سنایا۔ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس چندرچوڑ کے فیصلے کے تحت بھی ایسے معاملات میں براہ راست مداخلت نہیں کی جاسکتی ہے۔ عدالت نے عمر گوتم کے وکلا سے پوچھا تھا کہ میڈیا کو رپورٹنگ سے کیوں روکا جائے؟۔
#عمر گوتم نے الہ آباد ہائی #کورٹ میں #درخواست دائر کرکے میڈیا میں ان کے خلاف جاری فرضی خبروں پر #پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ عمر گوتم نے الزام لگایا کہ میڈیا غلط #رپورٹنگ کررہا ہے۔ عدالت کے کسی فیصلے کے بغیر اس کا میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے۔ انہوں نے میڈیا پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ حکومت کے دباؤ میں غلط رپورٹنگ کرکے انہیں بدنام کررہی ہے۔عمر #گوتم نے الزام لگایا تھا کہ میڈیا رپورٹنگ کے نام پر کیس سے متعلق خفیہ معلومات لیک کررہا ہے۔ ساتھ ہی میڈیا پر بھی تحقیقات کو متاثر کرنے کا #الزام لگایا گیا تھا۔



