سی اے اے مخالف مظاہرین سے نقصان کی وصولی کیلئے بن چکاہے قانون :یوپی نے سپریم کورٹ کو بتایا
نئی دہلی، 9 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اترپردیش میں سی اے اے مخالف مظاہرین سے توڑ پھوڑ کے نقصانات کی وصولی کو غیر قانونی قرار دینے والی درخواست پر سماعت سپریم کورٹ نے 23 جولائی تک کیلئے ملتوی کردی ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے لوگوں کو بغیر کسی قانونی بنیاد کے نوٹس بھیجے تھے۔ اس کے جواب میں یوپی حکومت نے آج کہا کہ اس سلسلے میں قانون بنایا گیا ہے۔
اس پر عدالت نے اشارہ کیا کہ اگلی سماعت میں معاملہ بند کردیا جائے گا۔گذشتہ سال جنوری میں پرویز عارف ٹیٹو نامی ایک درخواست گزار نے #سپریم کورٹ میں دعوی کیا تھا کہ یوپی میں اقلیتوں کو ہراساں کرنے کے لئے وصولی کے نوٹس بھیجے جارہے ہیں۔ درخواست گزار نے کہا کہ سپریم کورٹ کے پرانے فیصلے کے مطابق ایسے معاملات میںوصولی کے جائزے اور معاوضے کا حکم ہائی #کورٹ یا کسی عدالتی ادارہ سے آنا چاہئے تھا لیکن یوپی میں ضلعی انتظامیہ نے لوگوں کو نوٹس بھیجے ہیں۔ یہ نوٹسز غیر قانونی بھی ہیں کیونکہ ریاست میں اس کولے کر کوئی قانون موجود نہیں ہے۔
گذشتہ سال ہونے والی سماعت میں #عدالت عظمی نے #عوامی املاک میں توڑ پھوڑ کرنے والوں سے باز آوری کا مطالبہ کیا تھا لیکن ریاستی #حکومت سے لوگوں کو بھجوائے جانے والے نوٹس کے پیچھے قانونی بنیاد پرموقف رکھنے کو کہا تھا۔ آج تقریباڈیڑھ سال کے بعد یہ معاملہ لگا۔ #درخواست گزار کی جانب سے جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس ایم آر شاہ کی بنچ کو بتایا گیا کہ ان کے اہم #وکیل نیلوفر خان ذاتی وجوہات کی بناء پر پیش ہونے کی پوزیشن میں نہیں ہیں،
اس لئے سماعت ملتوی کردی جانی چاہئے۔اس پر ججوں نے جاننا چاہا کہ یوپی حکومت کی طرف سے کون پیش ہوا ہے۔ ریاست کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل گریما پرساد نے بنچ کو بتایا کہ اس معاملے پر ضروری قانون سازی کی گئی ہے، قانون کو مطلع کیا گیا ہے۔ اس کی بنیاد پر کلیمز ٹریبونلز بھی تشکیل دئے گئے ہیں۔ بنچ نے ان سے تحریری حلف نامے کی شکل میں زبانی طور پر رکھی گئی معلومات پیش کرنے کو کہا۔
سماعت 23 جولائی کو ہوگی۔درخواست گزار کی جانب سے درخواست کی گئی کہ سماعت کی تاریخ 1 ماہ کے بعد رکھیں۔ اس پر #ججوں نے کہا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس نے اس کیس کی پوری فائل پڑھ لی ہے۔ یہاں تک کہ اگر وکیل نیلوفر دستیاب نہیں ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ریاست کا حلف نامہ آنے کے بعد اگلی سماعت میں معاملہ بند ہوجائے گا۔



