قومی خبریں

کسان تحریک:حکومت کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کیلئے تیار مطالبات پورے نہ ہونے تک احتجاج جاری رہے گا : راکیش ٹکیت کی دوٹوک

غازی آباد، 9 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی کی سرحدوں پر کاشتکاروں کی جانب سے گذشتہ کئی مہینوں سے احتجاج جاری ہے۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ لائے گئے تین نئے زرعی کالے قوانین کے خلاف کسان طویل عرصے سے احتجاج کر رہے ہیں۔ دریں اثنا بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے #قومی ترجمان راکیش ٹکیت کا کہنا ہے کہ وہ حکومت سے بات کرنے کے لئے تیار ہیں۔
بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے قومی ترجمان راکیش ٹکیت نے گفتگو میں کہا ہے کہ اگر حکومت کی طرف سے کوئی شرط نہیں رکھی گئی تو وہ حکومت سے غیر مشروط بات کرنے کے لئے تیار ہیں۔ راکیش ٹکیت نے کہاکہ ہم آٹھ ماہ سے حکومت کو تلاش کر رہے ہیں، حکومت کہاں ہے؟ 22 جنوری کے بعد حکومت ہمیں کہیں نہیں ملی، حکومت مذاکرات کے لئے شرائط کیوں بنا رہی ہے؟۔
بتادیں کہ ایک روز قبل وزیر زراعت #نریندر سنگھ تومر نے کہا تھا کہ زرعی پیداوار مارکیٹ کمیٹیاں (اے پی ایم سی) اب مارکیٹ کی گنجائش کو بڑھانے اور بہتر سہولیات کی فراہمی کے لئے ایک لاکھ کروڑ روپے کے زرعی انفراسٹرکچر فنڈ سے مالی سہولیات حاصل کرسکیں گی۔اس پر راکیش ٹکیت نے کہا کہ ہم حکومت سے قرض نہیں چاہتے،ہم فصلوں کی قیمت چاہتے ہیں۔
ایم ایس پی کی ضرورت ہے، حکومت بتائے کہ وہ ایک لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کہاں کر رہی ہے۔حکومت کی طرف سے مستقل مطالبہ کیاجارہا ہے کہ کسانوں کی تحریک کو ختم کیا جائے۔ تاہم کسان اپنے احتجاج پر قائم ہیں۔ دوسری طرف #راکیش #ٹکیت نے کہا کہ #کسانوں کی تحریک ختم نہیں ہوگی۔ راکیش ٹکیت کا کہنا ہے کہ جب تک #مطالبات پورے نہیں کئے جاتے ،کسانوں کا احتجاج جاری رہے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button