لڑکی کے والدین کی درخواست پرسپریم کورٹ نے 3 ریاستوں کوبھیجا نوٹس
نئی دہلی،10جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے’لوجہاد‘ سے متعلق ایک کیس میں اڑیسہ، جموں و کشمیر اور چنڈی گڑھ انتظامیہ کو نوٹس بھیجاہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے یہ نوٹس اڑیسہ کے رہنے والے ایک جوڑے کی طرف سے دائر درخواست پر بھیجا ہے جس میں انہوں نے اپنی فارماسسٹ بیٹی کو ’لو جہاد‘ سے بچانے کی مانگ کی تھی۔
’لو جہاد‘لفظ سال 2017-18 میں سپریم کورٹ کی تاریخ میں کیرل کے ہادیہ-صافین جہاں کیس میں آیاتھا۔جسٹس یو یو للت، جسٹس اجے رستوگی اور جسٹس انیرودھ بوس کی بنچ نے ایڈووکیٹ سدرشن مینن کے دلائل سننے کے بعد تین ریاستوں اور مرکزی علاقوں کو معاملے میں نوٹس جاری کیا۔ سماعت کے دوران وکیل نے چنڈی گڑھ میں مسلمان نوجوان سے شادی کرنے اور پھر وہ غائب ہونے کی کہانی سنائی۔
وکیل نے کہا کہ شادی کے بعد بیٹی کہاں ہے، کس حالت میں، والدین کو اس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔ اس کی بیٹی شادی کے بعد لاپتہ ہوگئی ہے۔ سپریم کورٹ نے جواب دہندگان کو سماعت کی اگلی تاریخ 23 جولائی تک جوابی حلف نامہ داخل کرنے کو کہا ہے۔
اس سے قبل لڑکی کے #والدین کبیتا اور کیدارناتھ نے اپنی بیٹی کی جان کو خطرہ ہونے کے خوف سے #سپریم کورٹ میں ایک رٹ #دائر کی تھی۔ان کی بیٹی نے لکھنؤ جا نے سے پہلے اڑیسہ کے بیرہم پور میں جموں و #کشمیر کے ایک نوجوان کے ساتھ بی فارما کی تعلیم حاصل کی تھی، پھر نوکری کی تلاش میں چنڈی گڑھ گئی اور شادی کرلی۔
جموں و کشمیر کے بانڈی پورہ میں اس کا آخری اشارہ ملا تھا، اس کے بعد وہ لاپتہ ہے۔ وہ نوجوان جس سے لڑکی نے #شادی کی وہ باندی پورہ کا رہائشی ہے۔ لڑکی کے والدین نے کہا کہ بیٹی کسی بھی مذہب یا #ذات سے شادی کرنا چائے، انہیں اس سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس کی بیٹی اپنی پسند کے ہندو، #عیسائی یا #مسلمان لڑکے سے #شادی کرتی ہے تو وہ کسی کو تکلیف نہیں پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں شبہ ہے کہ ان کی بیٹی کو زبردستی شادی کیلئے مجبورکیاگیا ہے۔



