سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

عزت دیں پیسے کو نہیں محنت کو, محمد مصطفی علی سروری

ایم شاردا کا شوہر گذشتہ کئی برسوں سے آٹو چلا رہا ہے اور گھر کے اخراجات اسی طرح پورے ہورہے تھے لیکن گذشتہ برس جب کورونا کی وباء نے اپنا قہر پھیلایا تو اس کا اثر بہت سارے لوگوں پر پڑا۔ آٹو ڈرائیورس بھی اس سے محفوظ نہیں رہے۔ شاردا نے اخبار تلنگانہ ٹوڈے کے نمائندے کو بتلایا کہ آج سے پہلے ہمیں کسی طرح کی کوئی پریشانی نہیں ہوا کرتی تھی۔ میرا شوہر آٹو چلاکر جتنا بھی کماتا تھا اس میں ہمارا گذر ہوجاتا تھا۔ لیکن جب وبائی دور میں میرے شوہر کی آمدنی متاثر ہوگئی تو ہماری سب سے بڑی فکر ہمارے بچوں کی تعلیم تھی۔
میرے دو بچے ہیں اور جب اسکولس میں آن لائن تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا ہم لوگوں کو کم سے کم ایک اسمارٹ موبائل فون کی ضرورت تھی جس میں انٹرنیٹ ہو تاکہ ہمارے بچے بھی اسکول کی آن لائن کلاسس میں شریک ہوسکیں۔ اس کے علاوہ دیگر اخراجات میں گھر کا کرایہ، بچوں کی فیس اور دیگر بلوں کی ادائیگی بھی تھی۔ ان ضروریات کو دیکھ کر میں نے لوگوں کے گھروں میں بطور خادمہ کام کرنا شروع کیا۔
اب میرے بچے مجھے گھر کے کاموں میں مدد کرتے ہیں تاکہ میں گھر سے جلد سے جلد فارغ ہوکر اپنے کام پر جاسکوں۔ (بحوالہ نمرتا شری واستو کی رپورٹ۔ مطبوعہ 8؍ جولائی 2021ء ۔ تلنگانہ ٹوڈے)
Hyderabad Autowalas face the burnt of lockdown
کی سرخی کے تحت اخبار نے مزید لکھا کہ  شہر حیدرآباد کے آٹو والے جب وبائی دور میں اپنی آمدنی سے محروم ہوگئے تو انہوں نے اپنی جو کچھ بچت تھی پہلے اس کو استعمال کیا۔ پھر جب بچت بھی ختم ہوگئی تو کچھ آٹو والوں کی خواتین نے بھی محنت کرنا شروع کیا تاکہ پریشانی کے اس دور میں کچھ کمائی کر کے اپنے شوہروں کی اور گھر والوں کی مدد کرسکیں لیکن بہت سارے آٹو والے ایسے رہے، صرف آٹو والے نہیں بلکہ دوسرے پیشے سے وابستہ لوگ بھی تھے جن کی خواتین نے مشکل کی اس گھڑی میں اپنے مرد حضرات اور کمانے والے افراد کی مدد کرنے کا تہیہ کیا۔
لیکن جہاں پر عورتوں نے نہ تو اپنے گھریلو اخراجات کم کیے اور نہ حلال ذرائع سے محنت کرنے کا بیڑہ اٹھایا وہاں پر مرد حضرات قرضوں کی دلدل میں پھنستے گئے جس سے باہر نکلنے کا بظاہر کوئی راستہ بھی نظر نہیں آرہا ہے۔ 
وٹھل رائو کی عمر (56) سال ہے۔ اس کے تین بچے ہیں۔ جن میں سے دو بچے سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ برسر روزگار ہیں لیکن وٹھل رائو خود بھی محنت کرتا ہے اور دو ایک سال سے نہیں پچھلے 42 برسوں سے وہ گولی گوڑہ گرودوارے کے قریب اپنی چائے کا اسٹال چلاتے ہیں۔ جب بچے کمانے لگے تو تب بھی انہوں نے اپنی محنت کے سلسلے کو نہیں روکا۔ آزاد رپورٹر ابو ایمل سے بات کرتے ہوئے وٹھل رائو نے بتلایا کہ وہ آج چائے بیچنے کے علاوہ کاروبار کرتے ہوئے اپنی 12 آٹو ٹرالیوں کے مالک ہیں جن کے لیے باضابطہ ڈرائیور رکھ کر وہ فون پر کاروبار کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ جب بھی موقع ملے وہ زمینات، مکانات کی خرید و فروخت کے ذریعہ ریئل اسٹیٹ کا بھی کاروبار کرتے ہیں۔قارئین ذرا ایک لمحہ کے لیے اپنے اطراف و اکناف کے ماحول پر نظر ڈالیے۔ مسلمانوں میں ایسے کئی لوگ ملیں گے جو صرف اس لیے کام کرنا بند کردیتے ہیں کہ ان کے بچوں نے کمانا شروع کردیا ہے۔
محمد غوث (نام تبدیل) ایک کارخانہ چلاتے تھے اور اس کارخانے کی آمدنی سے انہوں نے اپنے بچوں کو پڑھایا اور جیسے ہی بچوں کو نوکری مل گئی انہوں نے کارخانہ جانا بند کردیا۔ نوکروں نے کارخانے کا سارا سسٹم خراب کردیا اور کل تک منافع دینے والا کارخانہ بالآخر بند ہوگیا اور غوث صاحب گھر پر ہی رہنے لگے۔ بیوی سے جب بہت بحث ہونے لگی تو دوستوں کے ساتھ رات دیر گئے تک گھر سے باہر وقت گذارنے لگے۔
بیوی کو بتلایا کہ جب بچوں کی شادی کے لیے لوگ طعنہ نہ دیں کہ ان کے ابا لیتھ مشین کا کارخانہ چلاتے تھے۔ آخر غوث نے بتلایا کہ وہ ایک بہت بڑا بزنس کر رہے ہیں جس کے لیے انہیں رقم کی ضرورت ہے۔ بہر حال بچوں نے کچھ رقم بھیجی تو غوث صاحب کا بزنس چلنے لگا۔ اب یہ کس طرح کا بزنس تھا کسی کو نہیں معلوم۔ روزانہ صاف ستھرے کپڑے پہن کر گھر سے جاتے۔ ٹفن بھی نہیں لیتے۔
ہر مہینے بچوں کی ہی بھیجی رقم لیتے اور کاروبار میں لگاتے۔ بیوی کو بھی سکون تھا کہ چلو اب گھر پر بیٹھ کر روز روز کے جھگڑوں سے تو نجات ملی۔ لیکن ایک تشویش ضرور تھی کہ آخر میاں کا کاروبار کونسا ہے جو رات دیر گئے تک چلتا ہے اور جس میں ہر مہینہ پیسے لگاتے ہی جانے پڑ رہے ہیں۔
غوث صاحب کے اس کاروبار کی پول اس وقت کھلی جب ایک رات غوث صاحب اپنے گھر واپس ہی نہیں آئے اور اگلے دن اخبارات نے کرائم کے صفحات پر پولیس کی جانب سے ایک گھر پر دھاوے اور وہاں پر جوا کھیلنے والوں کو کئی لاکھ کی نقد رقم کے ساتھ گرفتار کرنے کی خبر شائع ہوئی۔
ریاست تلنگانہ پورے ہندوستان میں اس حوالے سے سرفہرست ہے کہ یہاں پر بڑی تعداد میں ایسے خاندان ہیں جن کے افراد بیرون ملک برسر روزگار ہیں اور سرپرست صحت مند ہیں۔ بچے کمانے لگے ہیں تو انہیں اپنی معاشی سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہوئے مسلم سماج اور قوم کی تعمیر میں ہاتھ بٹانا چاہیے۔ لیکن یہ بڑے لوگ اپنی نوکری اور کاروبار کو معمولی سمجھ کر چھوڑ دیتے اور اولاد کی رقم پر گذارہ کرنے لگے۔ 
کیا مسلم خواتین وبائی دور میں گھر کے معاشی مسائل کو حل کرنے کے لیے مرد حضرات کا ہاتھ بٹانا نہیں چاہتی ہیں؟ اس سوال کا جواب ہے بالکل چاہتی ہیں۔
اخبار تلنگانہ ٹوڈے کی 7؍ جولائی 2021ء کی رپورٹ کے مطابق پرانے شہر سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے بھی موجودہ دور میں اپنے گھر والوں کی مدد کرنے کے مقصد سے سرمایہ کاری کی۔ اس سرمایہ کاری میں اس خاتون کو کرنا کچھ نہیں تھا بس گھر بیٹھے منافع کمانا تھا ۔ تفصیلات کے مطابق خاتون کو فون پر ایک sms آتا ہے۔ مسیج بھیجنے والے نامعلوم فرد نے بتلایا کہ اس کے بھیجے گئے لنک پر کلک کر کے سرمایہ کاری کرسکتے ہیں اور بہت کم مدت میں بہت سارا منافع کمایا جاسکتا ہے۔
خاتون نے نامعلوم فرد کے لنک پر کلک کیا تو تھوڑی ہی دیر میں ایک فون آیا اور فون کرنے والے نے خاتون کو گھر بیٹھے جلد سے جلد منافع کمانے کا پلان بتادیا اور کہا کہ خاتون کو کام کچھ نہیں کرنا ہے بس پیسے جمع کرنے ہیں۔ #خاتون تو چاہتی ہی تھی کہ جلد سے جلد منافع مل جائے۔ شروع میں محترمہ نے 10ہزار کی سرمایہ کاری کی۔ اپنا بینک اکائونٹ اور ساری پرسنل تفصیلات بتلادی جلد ہی خاتون کو خوش خبری بھی مل گئی۔
انہیں 10 ہزار روپیوں کی سرمایہ کاری کے بدلے میں ایک ہزار کا منافع مل گیا۔ اس منافع پر خوش ہوکر خاتون نے 10 ہزار کے بعد پورے تین لاکھ روپئے کی سرمایہ کاری کے لیے ان لوگوں کو رقم بھیج دی۔ 3 لاکھ روپئے بھیجنے کے بعد خاتون کے اکائونٹ میں 30ہزار تودور تین روپئے بھی نہیں آئے بلکہ وہ فون سوئچ آف ہوگیا جس پر وہ بات کر رہی تھی تب کہیں جاکر وہ ہوش میں آئی اور پھر دوڑی دوڑی پولیس اسٹیشن پہنچ کر شکایت درج کرواتی ہے ۔ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا اور انہیں انصاف دلایا جائے۔
(بحوالہ تلنگانہ ٹوڈے کی رپورٹ۔ مطبوعہ 7 ؍ جولائی 2021) 
دور حاضر میں پیسے کمانے کی خواہش تو ہر ایک کو ہے مگر محنت کے راستے سے کتراکر کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی ہے۔ یہ بات سمجھنی ہوگی۔ کامیاب لوگوں کی نقل نہیں بلکہ کامیاب لوگوں نے جو #محنت کی ہے اس کو نقل کرنے کی ضرورت ہے۔ 
#شہنشاہِ جذبات #دلیپ #کمار آج ہم میں نہیں رہے لیکن ان کا کیریئر سوپر اسٹار کے طور پر شروع نہیں ہوا بلکہ جب وہ پہلی مرتبہ پشاور میں اپنا گھر چھوڑ کر باہر نکلے تو پونے شہر میں پہنچے اور 1940ء میں #پونے کے #آرمی کینٹین کے باہر ایک اسٹال پر سینڈوچ فروخت کرنا شروع کیا تھا اور اپنی زندگی میں اپنی محنت سے پہلی مرتبہ 100 روپئے انہوں نے ایسے ہی کمائے تھے اور پھر پانچ ہزار روپیوں کی جب بچت جمع ہوگئی تب #ممبئی جاکر کام تلاش کیا۔ (بحوالہ اجئے جادھو کی رپورٹ مطبوعہ۔ 8؍ جولائی 2021ء ۔ اخبار انڈین ایکسپریس)
پی این دیشمکھ کی عمر (64) سال ہے۔ اس عمر میں بھی وہ روزانہ صبح ساڑے نو بجے اپنی پنکچر بنانے کی دوکان کھولتے ہیں اور یہی کام کرتے ہیں۔ قارئین پی این دیشمکھ کو عمر کے اس حصے میں کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ دیشمکھ کا #بیٹا 35 سالہ پروین دیشمکھ ایک ایم یل اے ہے۔ پی این دیشمکھ نے اخبار ٹائمز آف #انڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرا لڑکا چاہے کتنا بھی بڑا آدمی بن جائے، میں بدستور کام کرتا رہوں گا۔
میں نے اپنے بیٹے کو بھی یہی تعلیم دی کہ آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کے لیے ایمانداری سے کام کرنا شرط ہے۔ میں نے اسی پنکچر کی دوکان پر محنت کر کے اپنے بچوں کی پرورش کی۔ ان کی تعلیم کا انتظام کیا۔ اپنا گھر چلایا۔ مجھے اس کام پر فخر ہے۔ 35 سالہ پروین دیشمکھ نے ایک مرتبہ نہیں بلکہ دوسری مرتبہ دہلی کے جنگ پورہ حلقہ سے ایم ایل اے کی سیٹ پر کامیابی درج کی ہے۔ 
(بحوالہ اخبار ٹائمز آف انڈیا۔ رپورٹ مطبوعہ ، 23؍ فروری 2020)
یقینایہ واقعات بطور مثال یہاں پر درج کیے جارہے ہیں۔ مضمون کا اصل خلاصہ یہ واقعات نہیں بلکہ ان واقعات سے ملنے والے اسباق ہیں۔ بطور مسلم امہ ہمیں اس بات کی فکر کرنی ہے کہ ہمارے نوجوان، ہمارے مرد و خواتین محنت کا راستہ اختیار کریں گے اور بحیثیت مجموعی کاروبار چاہے چائے فروخت کرنے کا ہو یا پنکچر بنانے کا ۔ ہم ہر ایک محنت کرنے والے کی عزت کریں اور اس حوالے سے ایک دوسرے کو ترغیب دلائیں اور ہمت افزائی کا کام کریں گے۔ 
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہم #مسلمانوں کو ہر طرح کی ذہنی #غلامی اور پستی سے محفوظ رکھے اور فکری قلاشی سے ہماری حفاظت فرمائے اور ہم سب کو لوگوں کی دولت کو دیکھ کر نہیں بلکہ رزق #حلال #کمانے والے اور محنت کرنے والوں کی عزت کرنے والا بنادے۔ آمین یارب العالمین۔

(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ و صحافت میں بحیثیت اسوسی ایٹ پروفیسر کارگذار ہیں)

متعلقہ خبریں

Back to top button