سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

قربانی واجب ہونے کی شرائط اور نصاب✍️محمدشاہ نواز عثمانی

تین طبقے پائے جاتے ہیں، پہلا طبقہ جن کے پاس زکوٰۃ کا نصاب موجود ہوتا ہے،حکم ان کے ذمّے زکوٰۃ بھی فرض ہے، اور اگر صدقۃ الفطر اور قربانی کے ایام میں یہ نصاب موجود ہو تو ان کے ذمّے صدقۃ الفطر اور قربانی بھی واجب ہیں، دوسرا طبقہ، جن کے پاس زکوٰۃ کا نصاب بھی نہیں ہوتا، اور صدقۃ الفطر اور قربانی کا نصاب بھی نہیں ہوتاان کاحکم ،ان کے ذمّے #زکوٰۃ، #صدقۃ الفطر اور #قربانی میں سے کوئی حکم بھی لازم نہیں ہوتا۔

یہی وہ طبقہ ہے جن کو زکوٰۃ، صدقۃ الفطر اور صدقات واجبہ دینا جائز ہے،تیسرا طبقہ جن کے پاس زکوٰۃ کا  نصاب تو نہیں ہوتا البتہ صدقۃ الفطر اور قربانی کا نصاب موجود ہوتا ہےان کاحکم، ان کے ذمّے زکوٰۃ تو فرض نہیں البتہ صدقۃ الفطر اور قربانی واجب ہیں، یہ وہ طبقہ ہے کہ ان کے لیے بھی زکوٰۃ لینا جائز نہیں۔

قربانی اور زکوٰۃ کے نصاب میں فرق:قربانی اور زکوٰۃ کے نصاب میں فرق یہ ہے کہ زکوٰۃ میں تو صرف چار چیزوں یعنی #سونا، چاندی، #رقم اور #سامان تجارت کا اعتبار کیاجاتا ہے، جبکہ قربانی میں ان چار چیزوں کے علاوہ #ضرورت سے زائد سامان اور مال کا بھی حساب کیا جاتا ہے۔

جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان چار چیزوں کی وجہ سے صاحب نصاب بنا ہے تو اس کو زکوٰۃ کا نصاب کہا جاتا ہے، لیکن اگر وہ ضرورت سے زائد سامان کی وجہ سے صاحب نصاب بنا ہے تو اس کو قربانی کا نصاب کہا جاتا ہے، واضح رہے کہ قربانی اور صدقۃ الفطر کا نصاب ایک ہی ہے مذکورہ تفصیل سے یہ احکام ثابت ہوتے ہیں۔

(۱) جس شخص کے پاس زکوٰۃ کا نصاب موجود ہے تو اس کے ذمّے زکوٰۃ بھی فرض ہے اور اس کے ذمّے صدقۃ الفطر اور قربانی بھی واجب ہے، اور ایسے شخص کے لیے زکوٰۃ لینا بھی جائز نہیں

(۲)جس شخص کے پاس زکوٰۃ کا نصاب تو نہ ہو لیکن صدقۃ الفطر اور قربانی کا نصاب ہو تو اس پر زکوٰۃ تو فرض نہیں البتہ اس کے ذمّے صدقۃ الفطر اور قربانی واجب ہے، اور اس کے لیے زکوٰۃ لینا جائز نہی زکوٰۃ صرف اسی شخص کو دینا جائز ہے جس کے پاس زکوٰۃ کا نصاب بھی نہ ہو اور صدقۃ الفطر کا نصاب بھی نہ ہو۔

اس سے معلوم ہوا کہ زکوٰۃ دیتے وقت صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ اس پر زکوٰۃ فرض ہے یا نہیں، بلکہ زکوٰۃ دیتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس کے پاس صدقۃ الفطر اور قربانی جتنا نصاب ہے یا نہیں خلاصہ:جس شخص پر زکوٰۃ فرض ہے اس پر تو قربانی واجب ہے ہی، لیکن جس شخص کے پاس زکوٰۃ کا نصاب تو نہ ہو البتہ صدقۃ الفطر اور قربانی کا نصاب موجود ہو تو اس پر بھی قربانی واجب ہے، امید ہے کہ ان اصولی باتوں سے متعدد غلط فہمیوں کا ازالہ ہوسکے گا۔

قربانیوں کا تفصیلی نصاب

بنیادی طور پر قربانی پانچ چیزوں پر واجب ہوتی ہے، جن کو اموال قربانی کہا جاتا ہے(۱)سونا(۲)چاندی (۳)سامان تجارت (۴)رقم (۵)ضرورت سے زائد اشیاء اور سامان، ان پانچ چیزوں کو سامنے رکھتے ہوئے درج ذیل صورتوں میں قربانی واجب ہوتی ہے

(۱) جس شخص کے پاس صرف سونا ہو، باقی چار چیزوں (یعنی چاندی، رقم، مالِ تجارت اور ضرورت سے زائد سامان) میں سے کچھ بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ سونا ہے، جو سونا اس سے کم ہو اس پر قربانی واجب نہیں۔

(۲) جس شخص کے پاس ان پانچ #چیزوں میں سے صرف چاندی، یا صرف سامان تجارت، یا صرف رقم ہو تو ایسی صورت میں ان میں سے ہر ایک کا نصاب ساڑھے باون تولہ (یعنی 612.36 گرام) چاندی ہے،جو چاندی ساڑھے باون تولے سے کم ہو، اسی طرح جو سامان تجارت یا رقم ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے کم ہو تو اس پر قربانی واجب نہیں۔

(۳)جس شخص کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ضرورت سے زائد سامان ہو تو اس پر قربانی واجب ہے۔

(۴)جس شخص کے پاس ساڑھے سات تولہ سے کم سونا ہو، لیکن ساتھ ساتھ اس کے پاس کچھ چاندی یا کچھ سامانِ تجارت یا کچھ رقم بھی ہو تو اس صورت میں اگر ان کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت تک پہنچتی ہے تو ان پر قربانی واجب ہے، ورنہ نہیں۔

(۵)کسی شخص کے پاس یہ پانچوں چیزیں (یعنی سونا، چاندی، سامانِ تجارت، رقم اور ضرورت سے زائد سامان) ہوں یا ان میں سے بعض ہوں لیکن ان میں سے کوئی چیز بھی اپنے نصاب تک نہیں پہنچتی ہو تو اس صورت میں ان کو ملا کر ان کی مجموعی قیمت کا حساب لگایا جائے گا، اگر ان کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت تک پہنچتی ہے تو اس شخص پر قربانی واجب ہے، ورنہ نہیں۔

(۶)جس شخص کے پاس کچھ سونا یا کچھ رقم ہو اور ساتھ میں ضرورت سے زائد سامان بھی ہو اور ان کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی تک پہنچتی ہو تو اس پر قربانی واجب ہے(جواہر الفقہ)

فائدہ! زیرنظر رسالے میں زکوٰۃ کے نصاب کی متعدد صورتوں میں ساڑھے باون تولہ چاندی کو معیار بنایا گیا ہے جیسا کہ اکثر اہل علم حضرات کا اسی پر فتویٰ ہے، قربانی واجب ہونے کے لیے کس وقت صاحب نصاب ہونا ضروری ہے؟

قربانی واجب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ شخص قربانی کے تین دنوں (یعنی 10، 11 اور 12 #ذوالحجہ) میں صاحب نصاب ہو، یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص قربانی کے ان تین دنوں سے پہلے صاحب نصاب تھایا ان تین دنوں کے بعد صاحب نصاب بنا لیکن قربانی کے ان تین دنوں میں صاحب نصاب نہیں تھا تو ایسے شخص پر قربانی واجب نہیں اور یہ واضح رہے کہ اگر کوئی شخص قربانی کے تین دنوں میں ۱۲ذوالحجہ کے سورج غروب ہونے سے پہلے کسی بھی وقت صاحب نصاب بن جائے تو اس پر قربانی واجب ہوگی۔

ایسی صورت میں اگر قربانی کے ایام میں جانور ذبح کرنے کا موقع نہیں ملا تو قربانی کے ایام ختم ہونے کے بعد اب درمیانے درجے کے بکرے یا دنبے کی قیمت صدقہ کرنا ضروری ہے اگر جانور خریدنے کے باوجود بھی قربانی کے ایام میں قربانی نہ کرسکا تو اب اسی جانور کو صدقہ کرنا ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button