
نئی دہلی، 13 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)وزیراعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ کورونا وبا کی تیسری لہر خود سے دستک نہیں دے گی بلکہ یہ لاپروائی اور سستی اس کا سبب بن سکتی ہے اس لئے سبھی کو مل کر کووڈ سے متعلق رہنما خطوط پر سختی سے عمل کرتے ہوئے تیسرے لہر کو آنے سے روکنا ہوگا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نےکووڈ-19 کی صورتحال پر شمال مشرقی ریاستوں کے وزرائے اعلی سے بات چیت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے وبائی امراض کے خلاف جنگ اور ریاستوں کے دشوار گزار خطے کے باوجود جانچ ، علاج اور ویکسینیشن کے لئے انفراسٹرکچر بنانے کے لئے عوام ، صحت کارکنوں اور شمال مشرق کی حکومتوں کی تعریف کی۔
وزیر اعظم نے کچھ اضلاع میں کیسوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا اور جن علاقوں میں کیسز میں اضافہ درج ہوا ہے ان پر خاص نظر رکھنےاور بڑے پیمانےپر وہاں کووڈ سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی کارروائیوں کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے صورتحال سے نمٹنے کے لئے مائیکرو کنٹینمنٹ پروٹوکول کے استعمال پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے گذشتہ ڈیڑھ برسوں میں اس سلسلے میں حاصل شدہ تجربات اور بہترین طریقہ کارکی نشاندہی کرکے اس کا بھر پور استعمال کرنے کی تلقین کی۔
وائرس کی تیز رفتار اورتغیر پذیر نوعیت کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے تبدیلیوں کی سخت نگرانی کرنے اور اس کی نئی شکل پر نظر رکھنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے آگاہ کیا کہ ماہرین وائرس کی تبدیل ہونے والی شکلوں اور اس کے اثرات کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں، روک تھام اور مناسب علاج بہت اہم ہیں۔
انہوں نے کورونا سے جیت کے لیے مناسب طرز عمل کو اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جسمانی دوری، ماسک، ویکسین کی افادیت واضح ہے۔ اسی طرح ، ٹریکنگ اور بروقت علاج ومعالجے کی حکمت عملی ہی اس سے نمٹنے کا موثرطریقہ ہے۔
سیاحت اور کاروبار پر وبائی امراض کے اثرات کو تسلیم کرتے ہوئے ، وزیر اعظم نے مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کیے بغیر پہاڑی #سیاحتی #مقامات پر بھیڑ کے خلاف سختی سے متنبہ کیا۔ تیسری لہر کی آمد سے قبل #لوگ اس دلیل کو مسترد کردیتے ہیں اور وہ سیاحتی مقامات سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں، انھوں نے کہا کہ اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تیسری لہر خود نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ذہن میں بنیادی سوال یہ ہونا چاہئے کہ تیسری لہر کو کیسے روکا جائے؟
ماہرین بار بار لاپرواہی اور ہجوم کے خلاف #متنبہ کر رہے ہیں کیونکہ ان سے معاملات میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بھیڑ پر قابو پانے اور لوگوں کو بڑی تعداد میں ایک جگہ جمع ہونے سے بچنے کی سختی سے وکالت کی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ مرکزی حکومت کی ’سب کے لیے مفت ویکسین‘ مہم شمال مشرقی ریاستوں میں بھی یکساں اہمیت کی حامل ہے اور ہمیں ٹیکہ کاری کے عمل کو تیز کرتے رہنے کی ضرورت ہے۔ ویکسی نیشن اور لوگوں کو متحرک کرنے نیزافواہوں سے نمٹنے کےلئے، #وزیراعظم نے سماجی، تعلیمی اداروں، مشہور شخصیات اور مذہبی تنظیموں سے مدد لینے پر زور دیا۔ انہوں نے ان علاقوں میں جہاں سے وائرس کے پھیلاؤ کی توقع کی جارہی ہے وہاں ویکسینیشن مہم کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔
جانچ اور علاج کے لئے بنیادی ڈھانچے میں بہتری لانے کے لئے 23000 کروڑ روپے کے پیکیج کی حالیہ منظوری کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس پیکیج سے شمال مشرقی ریاستوں کے صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ یہ پیکیج شمال مشرق میں جانچ، تشخیص، جینوم کی ترتیب بندی کو تیز کرے گا۔ وزیر اعظم نے شمال مشرق میں بیڈز، آکسیجن کی سہولیات اور بچوں کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کے تیزی سے اضافہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ ملک میں پی ایم-کیئرز کے ذریعے سینکڑوں آکسیجن پلانٹ قائم ہورہے ہیں اور شمال مشرق میں بھی تقریباً 150 پلانٹ لگے ہیں۔ وزیر اعظم نے وزرائے اعلی سے درخواست کی کہ وہ ان پلانٹس کی تشکیل کے عمل میں تیزی لائیں۔
وزیر اعظم نے شمال مشرق کی جغرافیائی صورتحال کی وجہ سے عارضی اسپتالوں کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تربیت یافتہ افرادی قوت، آکسیجن پلانٹس، آئی سی یو وارڈز نیز نئی مشینوں کو بھی تیار کرنے کو کہا جو دو بلاک سطح کے اسپتالوں تک پہنچائی جا سکتی ہیں جن کی ان افرادی قوت کو ضرورت ہوگی۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے ہر طرح کی مدد کا یقین دلایا۔
ملک میں یومیہ 20 لاکھ ٹیسٹوں کی گنجائش کا ذکر کرتے ہوئے ، وزیر اعظم نے ترجیحی طور پر متاثرہ ضلع میں جانچ کے انفراسٹرکچر کو بڑھانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ترتیب یافتہ اور منصوبہ بند جانچ کے ساتھ ساتھ جانچ میں مزید سرعت لانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ وزیراعظم نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اجتماعی کوششوں سے ہم کورونا وائرس کے اس پھیلاؤ پر قابو پاسکیں گے۔
شمال مشرقی ریاستوں کے وزرائے اعلی کے ساتھ اس بات چیت میں #ناگالینڈ، #تری پورہ ، #سکم، #میگھالیہ، #میزورم، #اروناچل پردیش، #منی پور اور آسام کے وزرائے اعلی نے شرکت کی۔ تمام وزرائے اعلیٰ نے عالمی وبا کووڈ-19 سے نمٹنے میں بروقت کارروائی کرنے پر #وزیر اعظم کا #شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے شمال مشرقی ریاستوں کے لئے ان کی خصوصی نگہداشت اور دیکھ بھال کی کوششوں کوستائش کی۔ بات چیت کے دوران وزرائے اعلی کے علاوہ ، مرکزی وزیر داخلہ، دفاع، صحت، ڈونر (ڈی او این ای آر)اور دیگر وزرا بھی موجود تھے۔



