
نئی دہلی،13جولائی: (اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی کمیشن برائے خواتین (Delhi Commission for Women) کی چیئرپرسن سواتی مالیوال نے تہاڑ جیل میں #خواتین #قیدیوں کے لئے کوٹھریوں کے اندر بیت الخلاء میں دروازے لگانے، وکیلوں کی تعداد میں اضافہ کرنے اور کووڈ 19 کے مقدمات پر قابو پانے تک’ملاقات‘ پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی سفارشیں کی ہے۔
#جیل حکام اور #حکومت کو بھجوائی گئی سفارشات میں #فیشن #ڈیزائننگ جیسے کورسز کے لئے #اساتذہ کی خدمات حاصل کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔ یہ کورس پہلے یہاں چلائے جارہے تھے۔کمیشن کے جاری کردہ بیان کے مطابق تہاڑ جیل (Tihar jail) میں قید 276 خواتین میں سے 240 زیرغور ہیں اور 35 کو عدالت نے سزا سنائی ہے۔ یہاں کی جیل میں خواتین بہت سی اشیاء بناتی ہیں جن میں کپڑے، آفس #فائلیں، #زیورات، بسکٹ شامل ہیں، جسے ’ٹی جے‘برانڈکے نام سے فروخت کیاجاتاہے۔
کمیشن نے اپنی سفارش میں کہا ہے کہ ان مصنوعات کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی جانی چاہئے اور سرکاری محکموں کو تہاڑ جیل کی مصنوعات خریدنے کے لئے ترغیب دی جانی چاہئے کیونکہ اس سے ان خواتین کی بحالی اور تبدیلی کے عمل میں مدد ملتی ہے۔چیئرمین نے کہا کہ ان مصنوعات کی فروخت کے لئے ای کامرس ویب سائٹ سے بھی رابطہ کیا جانا چاہئے۔ مالیوال نے اپنی ٹیم کے ہمراہ خواتین جیل کا دورہ کیا اور اپنی سفارشات میں انہوں نے کہا کہ جیل کے احاطے میں ماں کے ساتھ رہنے والے چھوٹے بچوں کی بہترین دیکھ بھال کرنی چاہئے۔
کمیشن نے کہا کہ جب ٹیم جیل کے احاطے میں پہنچی تو سب سے پہلی بات جو ان کے خیال میں آئی وہ یہ تھی کہ تین خواتین کو ایک تنگ چیمبر میں رکھا گیا تھا اور کمرے کو بیت الخلا سے الگ کرنے کا کوئی دروازہ نہیں تھا۔ کمیشن نے سفارش کی ہے کہ کمرے کے اندر موجود ٹوائلٹ مناسب طریقے سے چھپائے اور بند کئے جائیں اور ان کے الگ دروازے ہونے چاہئیں۔پینل نے کہا کہ #تہاڑ #جیل میں خواتین کی زیادہ تعداد میں قید کے پیش نظر کمیشن نے وکیلوں کی تعداد کو بڑھا کر پانچ کرنے کی تجویز بھی دی ہے تاکہ انہیں بہتر قانونی امداد فراہم کی جاسکے۔
فی الحال اس کے لئے دو وکلاء کو تعینات کیا گیا ہے۔کمیشن نے ’ملاقات‘ پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے کی سفارش کی ہے، جو اس وقت قومی دارالحکومت میں کووڈ19 کی وجہ سے بند ہے، اس میں خواتین قیدی اپنے کنبہ کے افراد سے مل سکتی ہیں۔



