نئی دہلی، 15جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) دہلی کی کڑکڑ ڈوما عدالت نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سابق طالب علم لیڈر #عمرخالد کی #ضمانت عرضی پر #دہلی پولیس سے جواب طلب کرلیاہے ۔ کڑکڑڈوما کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج #امیتابھ راوت نے پولیس سے پوچھا ہے کہ خالد کو ضمانت پر رہا کیوں نہیں کیا جانا چاہئے۔ پولیس سے جواب طلبی کے ساتھ اب اس معاملہ پر اگلی سماعت27 جولائی کو عدالت میں ہوگی۔
خیال رہے کہ عمر خالد کو شمال مشرقی دہلی فسادات سازش کیس کے سلسلے میں غیر قانونی سرگرمیاں کی روک تھام کی ایکٹ (UAPA) کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ اس مقدمہ میں عمر خالد اور متعدد دیگر افراد کیخلاف انسداد #دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ان سب پر فروری 2020 میں ہونے والے تشدد کا مبینہ ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے ، جس فساد میں 53 افراد ہلاک اور 700 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔
عمر خالد کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء آصف اقبال تنہا ، جے این یو کی طالبہ نتاشا ناروال ،صفورہ زرگر ، آپ کے سابق کونسلر طاہر حسین اور کئی دیگر افراد پر بھی اسی سلسلے میں تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔دہلی کی کڑکڑڈوما عدالت میں یو اے پی اے کے تحت مبینہ ملزم شرجیل امام کی ضمانت کی درخواست پر بھی سماعت ہوئی۔ ملزم #شرجیل امام کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیئے کہ وہ صرف پر امن طریقے سے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج کئے جانے کی اپیل کر رہے تھے۔
عدالت اس معاملے پر 6 اگست کو سماعت کرے گی۔خیال رہے کہ حالیہ دنوں دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملہ میں آصف اقبال تنہا، نارووال اور کالیتا کی ضمانت منظور کرتے ہوئے سخت تبصرہ کیا اور کہا کہ حکومت نے اختلاف رائے دبانے کے لئے حق احتجاج اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں فرق کو دھندلا کردیا ہے۔



