
نئی دہلی، 16 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو کہا ہے کہ اگر کووڈ19 #ویکسین کلینیکل ٹرائلز کے بغیر خاص طور پر بچوں پر لگائی جاتی ہے تو یہ ایک تباہی ہوگی۔ #عدالت نے مرکز سے 18 سال سے کم عمر #بچوں کو ٹیسٹ کے بعد ٹیکہ لگانے کے لئے فوری اقدامات کرنے کو کہا کیونکہ پورا ملک اس کا منتظر ہے۔مرکز نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ 18 سال سے کم عمر بچوں کے لئے کوڈ ویکسین کے کلینیکل ٹرائلز جاری ہیں اور یہ مکمل ہونے کے قریب ہے۔
مرکز نے کہا کہ حکومت پالیسی بنائے گی اور ماہرین کی منظوری کے بعد ہی بچوں کو ٹیکے لگائے جائیں گے۔چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس جیوتی سنگھ پر مشتمل بنچ نے کہاکہ ٹرائل مکمل ہونے دیا جائے، ورنہ بغیر #ٹیسٹ کے ویکسین لگانے سے وہ بھی بچوں کے معاملے میں تباہی ہوگی۔بنچ نے کہاکہ ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد آپ اسے جلد سے جلد بچوں پر لگائیں، پورا ملک منتظر ہے۔ عدالت نے معاملے میں اگلی سماعت 6 ستمبر کو مقرر کردی ہے۔
ہائی کورٹ ایک #نابالغ کی طرف سے دائر مفاداتی عامہ قانونی چارہ جوئی (پی آئی ایل) پر سماعت کررہی تھی۔ اس میں درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس بنیاد پر 12 سے 17 سال کی عمر کے بچوں کو فوری طور پرٹیکہ لگانے کی ہدایت دینے کی اپیل کی ہے کہ خدشہ ہے کہ کووڈ19 کی تیسری لہر زیادہ بچوں کو متاثر کرے گی۔
مرکز کی طرف سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل چیتن شرمانے کہا کہ دوا ساز کمپنی زائڈس کیڈیلا، جو ڈی این اے ویکسین تیار کررہی ہے، نے اپنے کلینیکل ٹرائلز 12 اور 18 سال کی عمر کے افراد کے لئے مکمل کرلئے ہیں اوریہ قانونی اجازت کے زیرغور ہے۔



