جمعیۃ علماء ہند کے ایک وفد نے مقامی ڈی سی پی سے ملاقات کی اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا
نئی دہلی16جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مبینہ طور سے ہندو آرمی کے ذریعہ نجف گڑھ (Samaspur Khalsa) کے علاقہ میں مسلمانوں سے مکان خالی کرانے کی اپیل کے بعد علاقہ میں فرقہ وارانہ کشیدگی پھیل گئی تھی ۔اس کے مدنظر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا #محمود مدنی کی ہدایت پر تنظیم کے ایک وفد نے ڈی سی پی – دوارکا سیکٹر سنتوش کمار مینا سے ملاقات کی۔ وفد نے اس سلسلے میں ڈی سی پی صاحب کو ایک یادداشت بھی پیش کیا۔ اس موقع پر وفد کا حصہ رہے سپریم کورٹ کے وکیل ایڈووکیٹ محمد نوراللہ نے ڈی سی پی کو بتایا کہ اس طرح کے واقعہ سے علاقے کے پرامن ماحول کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ویڈیو کے مطابق (جو کہ ہندو آرمی کے نام سے بنائے گئے فیس بک پیچ پر بھی لوڈ ہے اورجسے بہت سارے شرپسندوں نے لائک بھی کیا ہے،)10 جولائی 2021 کو مبینہ طور سے ہندو آرمی سے تعلق رکھنے والے مقامی لوگوں کے ایک گروپ نے اس علاقے میں ایک ریلی نکالی اور مسلم رہائشیوں کے خلاف مہم چلائی۔ انہوں نے مقامی مسلمان باشندوں کو دھمکی دی کہ چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر اس جگہ کو چھوڑ دیں۔
اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد مقامی مسلموں کے علاوہ ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔ #جمعیۃ #علماء #ہند کے وفد کو متاثرہ علاقے کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس طرح کے #شرپسندوں کی تعداد بہت ہی کم ہے جو علاقے میں امن کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اگر #پولیس مناسب قانونی کاروائی کرتی ہے تو آسانی سے اس صورتحال پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
مقامی لوگوں کی طرف سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خوف اور تشدد کی وجہ سے کچھ خاندان پہلے ہی اس جگہ سے چلے گئے ہیں۔وفد نے مسلم مخالف نفرت انگیز مہم پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور ان متاثرہ خاندانوں کے معاملات اٹھائے جو لاچار محسوس کررہے ہیں اور متعلقہ پولیس محکمہ سے فوری مداخلت کی اپیل کی ۔
صورتحال کی سنگینی کو جاننے پر ، ڈی سی پی سنتوش کمار مینا نے فوری طور پر متعلقہ تھانہ کے ایس ایچ او سے بات چیت کی اور پوری تفصیل جاننے کی کوشش کی۔ ڈی سی پی صاحب نے اس سلسلے میں #مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی #یقین دہانی کرائی۔ جمعیۃ کے وفد میں ڈاکٹر اظہرعلی ، فرقان چودھری اور ایڈوکیٹ محمد نوراللہ شامل تھے ۔



