
انوکھی اور میٹھی آواز کی مالک سمن کلیان پور (Suman Kalyanpur Indian playback singer) مشہور گلوکارہ
سلام بن عثمان
آج ہم آپ کو ایک ایسی #گلوکارہ سے روشناس کرانے جارہے ہیں جنھیں نغمے تو بہت گانے ملے مگر وہ شہرت اور بلندی نہیں ملی جو ایک بڑی گلوکارہ کو ملنی چاہئے۔جی ہاں ہم بات کر رہے ہیں میٹھی اور #انوکھی آواز کی مالک #سمن #کلیان پور ( Suman Kalyanpur Indian playback singer) کی۔ 28 جنوری 1937 کو #ڈھاکہ میں ان کا جنم ہوا۔
اس وقت ڈھاکہ ہندوستان میں تھا آج #بنگلہ دیش میں ہے۔شادی سے پہلے سمن ہیمڈے نام تھا 1958 میں ان کی #شادی رامانند کلیان پور سے ہوئی اور پھر سمن کلیان پور کے نام سے مشہور ہوئیں۔آزادی سے قبل ان کا خاندان ڈھاکہ سے ممبئی آگیا۔
سمن کلیان پور کو بچپن سے ہی گانے کا بہت شوق تھا۔ممبئ آنے کے بعد گانے کے شوق کو دیکھتے ہوئے ان کے والد نےاستاد ایس این دیو کے پاس گانے کی تربیت کے لئے بھیج دیا۔مگر اس وقت کسی کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ سمن کلیان پور لتا منگیشکر کے مقابل کھڑے ہو سکتی ہے۔سمن کلیان پور بچپن سے ہی آر سی بورل،کے سی دیو اور کانن دیوی سے بہت متاثر تھی ساتھ ہی سچن دیو برمن کے بنگالی گانے بہت شوق سے سنا کرتی تھی۔
#ممبئی کے ایک میوزک پروگرام میں طلعت محمود کو ان کی آواز بہت پسند آئی اس وقت ہی انھوں نے سمن کلیان پور سے کہا آپ کے ساتھ ایک نغمہ ضرور گاؤنگا۔ اس وقت ایس ڈی برمن نے فلم میاں بیوی راضی میں ایک گانا گوایا جو بہت مشہور ہوا "چھوڑو چھوڑو موہی بئیاں”اس وقت ایک اور #گانا مشہور ہوا "نا تم ہمیں جانوں نا ہم تمہیں جانے”یہ گانا اتنا مشہور ہوا کہ لوگ کہنے لگے یہ گانا لتا منگیشکر نے گایا۔
سمن کلیان پور کے لئےایک وقت ایسا بھی آیا انھیں لتا منگیشکر کے ساتھ گانے کا موقع ملا،سمن کلیان پور بہت گھبرائی ہوئی تھی۔اس وقت ہیمنت کمار نے حوصلہ اور مشورہ دیا کبھی بھی بہت اونچی آواز میں گانے کی کوشش نہیں کرنا ،تم ایک اچھی گلوکارہ ہو۔
سمن کلیان پورکو سنگیت کار نوشاد کے ساتھ بھی گانے کا موقع ملا۔انڈسٹری میں سمن کلیان پور کا نام تو بہت تھا مگر ان کے نام کے ساتھ لتا #منگیشکر کا نام جڑ جاتا تھا،جس کی وجہ سے ان کو کافی نقصان بھی ہوا۔
کچھ سنگیت کارایسے گلوکار اور گلوکارہ کے ساتھ کام کرنا پسند کرتے تھے جو ان کے تال میل میں بیٹھتے تھے یعنی ان کے گروپ میں سے تھے اور ان ہی لوگوں کوگانے کا موقع دیا جاتا تھا۔ اس وقت کے بڑے گلوکار اور گلوکارہ کو چھوڑ کر کسی نئے سے گانا گوانا نہیں چاہتے تھے۔
جس کی وجہ سے سمن کلیان پور کو خاموش بیٹھنا پڑا۔ قدرت نےان کا ساتھ دیا سمن کلیان پور کا۔جب رفیع صاحب کے ساتھ لتا جی کی ناراضگی رائیلٹی کو لے کر چل رہی تھی اور لتا منگیشکر نے محمد رفیع کے ساتھ گانے نہیں گانے لگی۔اور اس وقت موقع ملا سمن کلیان پور کو #رفیع صاحب کے ساتھ گانے کا۔؎
کئی گانے مشہور ہوئے جن میں "تم نے پکارا اور ہم چلے آئے جان ہتھیلی پر لے آئے” "آج کل تیرے میرے پیار کے چرچے ہر زبان پر سب کو معلوم ہے اور سب کو خبر ہوگئی”اس وقت بھی لوگوں نے یہی کہا، کیا خوب گایا لتا جی نے۔شنکر جئے جشن کے سنگیت پر بھی سمن کلیان پور نے بہت گانے گائے۔
ایک وقت ریڈیو پر گلوکار کا نام نہیں لیا جاتا تھا لوگوں کے اصرار پر یہ کام آمین سیانی نے شروع کیا اور جب گلوکار اور گلوکارہ کا نام لیا جانے لگا تو معلوم ہوا کہ یہ گانا تو سمن کلیان پور نے گایا۔
کئی بار تو ریکارڈ پر سمن کلیان پور کی جگہ لتا جی کا نام چھپ جاتا تھا۔1960 تک سمن کلیان پور نے انڈسٹری میں اپنا ایک الگ مقام بنا لیا تھا۔کئی گانے تو بہت مشہور ہوئے "نا جانے کیسے پل میں بدل جاتے ہیں یہ دنیا کے بدلتے رشتے۔۔۔۔”
اس وقت بھی بڑے سنگیت کار،پروڈیوسر،ڈائیریکٹر بڑے گلوکار سے ہی گانے گواتے اور سمن کلیان پور کو موقع نہیں دیا جاتا تھا جب بڑے گلوکار بہت زیادہ مصروف رہتے تو موقع ملتا اور گانا بھی مشہور ہوجاتا۔
یوں کہہ سکتے ہیں سمن کلیان پور کا گایا ہوا گانا ان پر بلکل صحیح بیٹھتا ہے۔"زندگی امتحان لیتی ہے” جب بھی موقع ملا انھوں نے بہت ہی میٹھی آواز کے ساتھ گایا اور گانا بھی لوگوں نے پسند کیا۔انڈسٹری نے انھیں ڈپلیکیٹ کے طور پر گانے گوائے! اس وقت کی مشہور میوزک کمپنی ایچ ایم وی نے 50 گانوں کا البم جاری کیا۔؎
جس میں رفیع صاحب،لتا منگیشکر،آشا بھوسلے،طلعت محمود،مناڈے،کشور کمار،ہیمنت کمار،اور سمن کلیان پور بھی شامل تھیں مگر البم کے سر ورق پر نا تو نام تھا سمن کلیان پورکا اور نا ہی تصویر تھی!
سمن کلیان پور نے 1954 میں پہلا گانا گایا طلعت محمود کے ساتھ فلم تھی منگو۔اس کے بعد انھوں نے کئ زبانوں میں گایا جس میں ہندی، مراٹھی، گجراتی، کننڑ،بنگالی،راجستھانی،بھوجپوری پنجابی اور اوریہ میں بھی گایا تقریباً انھوں نے 857 گانے گائے۔
سمن کلیان پوری کئ سنگیت کار اور نغمہ نگار کے ساتھ گانے گائیں جس میں نوشاد صاحب، روشن، کلیان جی آنند جی،لکشمی کانت پیارے لال،شنکر جئے کشن،خیام،چتر گپت،اندیور اور بھی کئی کے ساتھ، کئی گلوکار اور گلوکارہ کے ساتھ بھی گانے ہیں جس میں محمد رفیع صاحب،لتا،مکیش،آشا بھوسلے،طلعت محمود،کشور کمار،مناڈے، گیتا دت،مہندر کپور شمشاد بیگم کے ساتھ بھی گانے گائیں۔
ایوارڈ کی فہرست کچھ خاص نہیں ہے مگر اہم ضرور ہے۔تان سین ایوارڈ ، گجرات مہاراشٹرا سرکار ایوارڈمدھیہ پردیش سرکار ایوارڈ،لتا النکار ایوارڈ سے نوازا گیا۔سمن کلیان پورکے کچھ مشہور نغمے جنھیں لوگ لتا سے جوڑتے ہیں۔
زندگی امتحان لیتی ہے۔۔۔
تم نے پکارا اور ہم چلے آئیں۔۔۔
آج کل تیرے میرے پیار کے چرچے ۔۔۔
ہے نا بولو بولو ممی بولو بولو۔۔۔
نانا کرتے پیار تمہیں سے کر بیٹھے۔۔۔
میرا پیار بھی تو ہے یہ بہار بھی۔۔۔
تم سے او حسینہ محبت جو میں نے کرنی تھی۔۔۔۔۔
اجھن آیو نا بالم ساون بیتا جائے۔۔۔
آیا نا ہم کو پیار جتانا۔۔۔۔۔۔
ایسے تو نا دیکھو۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا "زندگی امتحان لیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔” سمن کلیان پور اپنی میٹھی آواز سے مشہور تھی جس کی وجہ سے ان کو کئی زبانوں میں گانے کا موقع ملا۔اور تقریباً 857 گانے ان کے نام ہیں اور عوام میں کافی مقبول بھی ہوئے،مگر ایک یہ کہنا پڑتا ہے ان کی آواز لوگوں کو لتا منگیشکر کی ہی آواز معلوم ہوتی ہے!!!!!!!


