قومی خبریں

پارلیمنٹ پر احتجاج میں مظاہرین کی تعداد کم کرنے کی پولیس کی درخواست ناقابل قبول: کسان لیڈر

نئی دہلی، 18 جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی پولیس نے اتوار کے روز کسان تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ 22 جولائی سے تین زرعی قوانین کے خلاف پارلیمنٹ کے سامنے مجوزہ مظاہرے میں مظاہرین کی تعداد کم کریں، جسے مسترد کردیا گیا۔ یہ معلومات کسان تنظیم کے ایک لیڈر نے دی ہے۔راشٹریہ کسان مزدور مہاسنگ کے قومی صدر شیو کمار کککا نے کہاکہ ہم نے #پولیس کو اطلاع دی کہ #مانسون کے اجلاس کے دوران 200 کسان ہر روز سنگھو بارڈر سے #پارلیمنٹ میں جائیں گے۔ یہ پرامن احتجاج ہوگا اور #مظاہرین کی شناخت کو یقینی بنانے کے لئے وہ بلے لگائیں گے۔
قابل ذکر ہے کہ #پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس پیر سے شروع ہورہا ہے اور اس کے اختتام کی تاریخ 13 اگست مقرر کی گئی ہے۔کاککا نے کہا کہ آدھار نمبر اور فون نمبر سمیت ہر مظاہرین کی تمام تفصیلات پولیس کو دے دی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے احتجاج کے لئے متبادل مقام کی تجویز پیش کی تھی اور کسان تنظیموں سے مظاہرین کی تعداد کم کرنے کو کہا تھا، جسے کسان لیڈران نے مسترد کردیا تھا۔کاککا نے کہا کہ پولیس پیر کو اپنا جواب دے گی، جس کے بعد احتجاج کا وقت طے ہوگا۔
قابل غور ہے کہ کسان گذشتہ سال ستمبر میں نافذ کردہ تینوں زراعت کے قوانین کے خلاف گذشتہ سال نومبر سے دہلی کی سرحد پر تین جگہوں سنگھو، ٹکری اور غازی پور پر احتجاج کر رہے ہیں۔تقریبا 40 کسان تنظیموں کا اجتماعی پلیٹ فارم سنیکت کسان مورچہ مرکزی زرعی قوانین کے خلاف مظاہروں کی قیادت کر رہا ہے اور مانسون اجلاس کے دوران 200 کسانوں کے مظاہرے پارلیمنٹ کے سامنے روزانہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button