اسلام آباد، 19جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ’’ہم نے لگ بھگ تین لاکھ افغان فوجیوں کو گزشتہ 20 برس کے دوران ہر طرح کی جدید تربیت اور ہتھیاروں سے لیس کیا ہے۔ مجھے اس بات پر زور دینے دیں کہ ہر وہ جدید ہتھیار جو کسی بھی ماڈرن فوج کے پاس ہوتے ہیں لہذٰا #افغان #فوج با آسانی تقریباً 75 ہزار #طالبان #جنگجوؤں کا مقابلہ کر سکتی ہے‘‘۔
یہ الفاظ ہیں #امریکہ کے صدر جو #بائیڈن کے جن کا اپنے حالیہ بیان میں کہنا تھا کہ افغان فورسز اور پولیس کی جس معیار کے تحت تربیت کی گئی ہے طالبان صلاحیت کے لحاظ سے اس کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتے۔صدر بائیڈن کے افغان فوج پر اعتماد کے باوجود افغانستان میں طالبان کی حالیہ پیش قدمی اور افغان #فورسز کی کئی علاقوں میں پسپائی کی اطلاعات کے بعد افغان فورسز کی استعداد کار اور طالبان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پر سوال اْٹھائے جا رہے ہیں۔گزشتہ دنوں امریکی نشریاتی ادارے سی این این پر 22 افغان کمانڈوز کی طالبان کے ہاتھوں ہلاکت کی مبینہ ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد جہاں طالبان کے خلاف غم و غصہ میں اضافہ ہوا ہے وہیں کئی علاقوں میں افغان فورسز کی پسپائی پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔
خیال رہے کہ چند روز قبل سی این این نے ایک ویڈیو نشر کی تھی جس میں افغان صوبے فریاب کے شہر دولت آباد میں ہتھیار ڈالنے کے باوجود طالبان جنگجوؤں نے مبینہ طور پر 22 افغان کمانڈوز کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔طالبان نے سی این این کی اس ویڈیو کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کمانڈوز کی ہلاکت سے اظہارِ لاتعلقی کیا تھا۔
امریکہ اور اتحادی افواج کے انخلا کے دوران طالبان کی پیش قدمی اور افغان فورسز کے ساتھ لڑائی کے دوران لگ بھگ ایک ہزار سے زائد افغان فوجی تاجکستان میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے تھے۔البتہ افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ افغان سیکیورٹی فورسز بھرپور عزم کے ساتھ طالبان کا مقابلہ کر رہی ہیں اور مختلف کارروائیوں میں سیکڑوں طالبان جنگجوؤں کو ہلاک بھی کیا جا چکا ہے۔
افغان نیشنل آرمی کی ازسر نو تشکیل کی بنیاد افغانستان پر امریکہ کے قبضے کے بعد دسمبر 2002 میں جرمنی کے شہر بون میں ہونے والی کانفرنس میں رکھی گئی تھی۔افغانستان میں سابق صدر حامد کرزئی کی قیادت میں بننے والی نئی عبوری حکومت اور امریکہ سمیت کانفرنس میں شریک دیگر ممالک نے افغان فورسز کی بنیاد رکھنے کی منظوری دی تھی۔ابتداً 70 ہزار فوجیوں کو بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جن کی تربیت کی ذمے داری امریکی فوج کو دی گئی تھی جب کہ بون کانفرنس میں شریک دیگر ممالک نے بھی افغان فورسز کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔
افغان فورسز کے قیام کے وقت بہت سی ملیشیاز بھی اس میں ضم ہو گئی تھیں جن کے ہزاروں جنگجوؤں کو بھی افغان فوج میں بھرتی کیا گیا۔گزشتہ دو دہائیوں کے دوران افغان فورسز کی تعداد اور اْنہیں جدید اسلحے سے لیس کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔سن 2002 میں افغان فورسز کے لیے بھرتیوں کا آغاز ہوا تو امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک نے ریکروٹس کی تربیت کی ذمے داری لی۔ اس دوران کابل اور دیگر بڑے شہروں میں بیسز اور انفراسٹرکچر تعمیر کیا گیا۔
کابل میں امریکہ نے ڈرل انسٹرکٹر اسکول قائم کیا جب برطانیہ نے نان کمیشنڈ افغان فوجیوں کی ابتدائی اور ایڈوانس ٹریننگ کا بیڑہ اٹھایا تھا۔ یونائیٹڈ اسٹیٹس ملٹری اکیڈمی، نیو یارک کے تحقیقی ادارے کامبیٹنگ ٹیررازم سینٹر کے مطابق افغان فوج کی مجموعی تعداد تین لاکھ 52 ہزار کے لگ بھگ ہے۔افغانستان کی فوج کے موجودہ سربراہ جنرل ولی محمد ہیں، جنہیں حال ہی میں اشرف غنی نے جنرل یسین ضیا کی جگہ تعینات کیا تھا۔



