
نئی دہلی، 19 جولائی: (اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پلٹزر ایوارڈ یافتہ ہندوستانی فوٹو جرنلسٹ دانش #صدیقی کی لاش اتوار کی شام کو افغانستان سے دہلی پہنچی۔ ان کی لاش کو ان کے اہل خانہ نے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے جامعہ میں واقع ان کے گھر لے گئے، جس کے بعد اہل خانہ اور ان کے قریبی افراد نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور سب نے نم آنکھوں سے دانش صدیقی کو الوداع کہا۔فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی #قندھار کے اسپن بولدک میں #افغانستان اور طالبان کے مابین جاری جنگ کی کوریج کر رہے تھے۔
انہیں افغان فوجیوں اور طالبان عسکریت پسندوں کے مابین شدید لڑائی کاکور کرتے ہوئے مارا گیا تھا۔ جمعہ کے روز ان کے قتل کی خبر نے نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کے لوگوں کو حیران کردیاتھا۔تقریبا 2 دن انتظار کے بعد ان کی لاش کو افغانستان سے دہلی لایا گیا۔ جونہی لوگوں کومعلوم ہوا کہ ان کی لاش دہلی لائی جارہی ہے، لوگ جامعہ میں ان کے گھر کے باہر جمع ہونا شروع ہوگئے۔ جس میں نہ صرف ان کے کنبہ کے افراد تھے بلکہ ان کے دوست، پڑوسی اور میڈیا کے بہت سے ساتھی بھی پہنچے۔دانش کی لاش اتوار کی شام 6 بجے کے قریب ائیر انڈیا کی پرواز کے ذریعے افغانستان سے دہلی پہنچی جہاں اس کی لاش کو اہل خانہ کے حوالے کردیا گیا۔
جس کے بعد قریب آٹھ بجے ایک ایمبولینس میں اس کے کنبہ کے افراد اس کی لاش جامعہ میں واقع اس کے گھر لائے۔ دانش صدیقی کے گھر اس کے جاننے والوں کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی موجود تھی۔ لوگوں نے نم آنکھوں سے #دانش کو الوداع کہا۔گھر کے اندر صرف کنبہ کے افراد موجود تھے اور کچھ قریبی لوگ۔ اس کے بعد ساڑھے نو بجے کے قریب دانش کو آخری خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے #تدفین کیلئے جامعہ #قبرستان لے جایا گیا۔
جہاں جامعہ گراؤنڈ میں ان کی #نماز ادا کی گئی جس میں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔لوگ صرف دانش کی ایک جھلک دیکھنا چاہتے تھے لیکن اہل خانہ نے لوگوں کو بتایا کہ دانش کا چہرہ نہیں دکھایا جاسکتا اور دانش کو دیکھتے ہی سب نے اسے الوداع کردیا لیکن دانش صدیقی کی یادیں اور اس کے کام لوگوں کے ذہن میں ہمیشہ زندہ رہیں گے اور لوگ اسے یاد کرتے ہوئے #جذباتی ہوتے دکھائی دے۔
آپ کو بتادیں کہ دانش جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم رہے تھے۔ دانش صدیقی نے اس یونیورسٹی سے ماسٹر کیا تھا اور اس کے والد اختر صدیقی یونیورسٹی میں فیکلٹی آف ایجوکیشن کے ڈین تھے۔



