گجرات میں کمال: اپریل میں کووڈ سے ہوئی جس کی موت، جولائی میں اسی کولگا ویکسین کا دوسراٹیکہ
بناس کانٹھا، 19 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)گجرات کے ضلع بناس کانٹھا میں رہنے والے ورسی بھائی پرمار کے موبائل پر آیا ایک مبارکبادی پیغام ان کے جلے پر نمک چھڑکنے میں کم نہیں تھا۔ اس سال 23 اپریل کو ان کے والد 70سالہ ہریجی لکشمن پرمار کی کورونا سے موت ہوگئی تھی۔ اس کا #کنبہ اس غم میں ڈوبا ہوا ہے لیکن 14 جولائی کو اس کے موبائل پر ایک پیغام آیا جس میں لکھا گیا تھاکہ’ مبارک ہو، آپ کے والد کو #کووڈ 19 #ویکسین کی دوسری ڈوز بھی لگ گئی۔
ورسی بھائی کے غصہ اور تکلیف کاکوئی ٹھکانا نہ رہا۔ انتظامیہ کی سراسر غفلت اور خلل ڈالنے سے وہ سخت ناراض ہیں۔ ورسی بھائی کا کہنا ہے کہ اگر اس وقت ان کے والد کو بستر اور آکسیجن ملتا تو وہ آج زندہ ہوتے۔ ورسی نے کہاکہ ویکسین مینجمنٹ پر اس بڑی غفلت اور اس نظام کی #لاپرواہی میرے والد کی موت کا مذاق ہے۔ کاش اگر انہیں پہلے یہ ویکسین مل جاتی تو شاید ان کی زندگی بچ جاتی۔
#ٹائمز میں شائع ہوئی خبر کے مطابق ورسی بھائی نے کہاکہ میرے والد کو ویکسین کی پہلی خوراک بھی نہیں ملی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ جلے پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ گجرات میں اس طرح کی غلطی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ کوون ایپ سے بہت سارے لوگوں کو پیغامات بھیجے جارہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ مربھی چکے ہیں۔
بناس کانٹھا ضلع کے سیگم تالہ کے رادوسن گاؤں کے رہائشی ورشی بھائی کا کہنا ہے کہ ایک شخص علاج کے فقدان کی وجہ سے ہلاک ہوگیا اور ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ نظام انہیں کووڈ19 کی ویکسین دے رہا ہے۔ آخر وہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟۔



