بین ریاستی خبریں

بھنڈارااسپتال کے حادثہ کے بعدپتہ چلا ۹۰؍فیصدطبی مراکزفائرمحکمہ کے بغیر این اوسی کے

ممبئی : (اردودنیا) افسوس کی بات ہے کہ جب بھی کوئی خوفناک حادثہ پش آتاہے اسکے بعدہی سرکاری مراکزمیں خامیوں کاپتہ چلتاہے۔صحافی تبسم برناگروالانے سوشل میڈیاپر انڈین ایکسپریس کوپیش کردہ ر پور ٹ میں یہ غورطلب انکشاف کیاہےکہ مہاراشٹرکے ۳۴۳؍اضلاع میں واقع طبی سرکاری مراکزاوراسپتال جنکی تعداد۴۸۴؍ہے۔۹۰؍فیصدطبی مراکزافائرمحکمہ سے نوآبجکشن سرٹیفکیٹ (این اوسی)حاصل کئے بغیرہی مصورف بہ عمل ہیں۔

مزیدتفصیلات کے مطابق ۹؍جنوری کوبھنڈاراضلع کے استپال میں آگ لگنے کی وجہ سے ۱۰؍نوزائیدہ بچے جل کرہلاک ہوگئےتھے۔رپورٹ کے مطابق اس حادثہ کے بعد ڈیٹا جمع کرنے پرتشویشناک حقائق سامنے آئے ہیں۔صحافی موصوفہ نے بتایاکہ مہاراشٹرکے۳۴؍اضلاع دیہی اسپتال اورپرائمری ہیلتھ سینٹرآگ سے تحفظ سے متعلق ضوابط کی پرواہ کئے بغیر،نیزمحکمہ صحت عامہ، محکمہ رفاہ عامہ(پی ڈبلیوڈی)،نگرپریشداورمیونسپل کارپوریشن سے کسی طرح کے رابطہ کے بغیرآگ سے تحفظ سے متعلق ضابطوں کی پرواہ کئے بغیرجاری ہیں۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ ۵؍سالوں میں مہار ا شٹرکے ۱۷؍سرکاری اسپتالوں میں آگ لگنےکے واقعات ہوچکے ہیں۔این راماسوامی،ڈائرکٹرنیشنل ہیلتھ مشن نے ایک بیان میں بتایاکہ محکمہ زدہ عامہ نے کئی قدیم سالہ اسپتالوں کوبغیراین اوسی کے ہمارے حو الے کیاہے۔اب کاروائی زیرعمل ہے اورضروری دستاویزات حاصل کرلی جائینگی۔نندوربار کے ضلع ہیلتھ افسرڈاکٹرنتین پورکے نے اعتراف کیاکہ آگ بجھانے کے آلات ہونے کےباوجودضلع پرائمری ہیلتھ مراکزکواس بارے میں کوئی تربیت نہیں دی گئی ہے۔

آگ سے تحفظ سے متعلق ناقص انتظامات اورضروری تربیت سے مبراسرکاری اسپتالوں کی تعدادپونے میں ۲۶؍،نندوربارمیں ۱۵؍بتائی گئی ہے۔نندوربار ، دھولیہ،ستارا،جلگاؤں،اورسندھودرگ میں واقع سرکاری اسپتالوں نے کوئی بھی فائرآڈٹ رپورٹ اب تک پیش نہیں کی ہےاورنہ ہی ان اسپتالوں کےپاس این اوسی موجودہے۔بھنڈارااسپتال کے دلدوز سانحہ کےبعدسرکاری اسپتالوں سے متعلق پیش کردہ حقائق غورطلب ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button