بین ریاستی خبریں
آبادی کنٹرول کولے کر’پاپولیشن آرمی‘بنائے گی آسام حکومت مانع حمل ادویات تقسیم کریں گے کارکنان: وزیراعلیٰ کااعلان
گوہاٹی، 20 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مسلم اکثریتی علاقوں میں آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے #آسام حکومت ایک پاپولیشن آرمی بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔ ریاستی وزیر اعلی ہیمنت بسووا شرما (Assam chief minister Himanta Biswa Sarma) نے اسمبلی میں یہ اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ہزار نوجوانوں کی فوج مختلف علاقوں میں پہنچ کر #مانع #حمل #ادویات تقسیم کرے گی۔ لوگ آبادی پر قابو پانے کے حوالے سے #وزیر #اعلی کی بہت سی تجاویز کی پہلے ہی مخالفت کر چکے ہیں۔ معلومات دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ ریاست کے مغربی اور شمالی حصوں میں آبادی میں اضافہ ہورہا ہے۔
قابو پانے کے اقدامات اور مانع حمل ادویات کی تقسیم کولے کرآگاہی پھیلانے میں چار چیپوری کے تقریبا 1000 نوجوان شامل ہوں گے۔ہم آشاکارکنان کی ایک علیحدہ ٹیم تشکیل دینے کی تیاری کر رہے ہیں، جسے پیدائش پر قابو پانے اور مانع حمل ادویات کا کام دیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ 2001 سے 2011 تک آسام میں ہندوؤں کی آبادی میں اضافے کی شرح 10 فیصد تھی جبکہ مسلمانوں کی آبادی کی شرح 29 فیصد ۔ کم آبادی کی وجہ سے بڑے گھروں اورگاڑیوں کی وجہ سے آسام میں ہندوؤں کے طرز زندگی میں بہتری آئی ہے، بچے ڈاکٹر اور انجینئر بن رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ کے مطابق وہ ریاست میں بڑھتی آبادی پر قابو پانے کے اقدامات کے لئے سخت محنت کر رہے ہیں۔ تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ انہوں نے پیش کردہ اعداد و شمار کس بنیاد پر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ زیادہ آبادی کی وجہ سے مغربی اور وسطی آسام کی عوام کو درپیش مسائل اوپری آسام کی عوام نہیں سمجھ پائے گی ۔ ساتھ ہی انہوں نے زیادہ آبادی والے ان علاقوں میں لوگوں کو تعلیم دلانے کی بات کی ہے۔



