قومی خبریں

جموں وکشمیر انتظامیہ کا بڑا فیصلہ دوسری ریاستوں میں شادی ہونے پر شریک حیات کو بھی ملے گامستقل رہائشی کاسرٹیفکیٹ

سرینگر، 22 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اب اگر جموں و کشمیر کے مقامی شہری دوسری ریاستوں کی کسی عورت یا مرد سے شادی کرتے ہیں تو ان کی شریک حیات کو بھی جموں و کشمیر کا مستقل رہائشی سمجھا جائے گا۔ یہ فیصلہ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر نے لیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق #جموں و #کشمیر ڈومیسائل سرٹیفکیٹ رکھنے والے شخص سے شادی کرنے والی خاتون یا مرد بھی ڈومیسائل کے اہل قرار پائے جائیں گے۔ جس کے تحت یہ افراد جموں و کشمیر میں سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے اہل بھی ہوں گے۔

اب اگلی کڑی میں ان کے بچوں کو بھی ڈومیسائل کا حقدار بنایا جاسکتا ہے۔جموں وکشمیر انتظامیہ نے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ رولز میں ساتویں شق کو شامل کیا ہے۔ اس ساتویں شق کو #آئین ہند کے #آرٹیکل 309 کا استعمال کرکے #جموں و کشمیر (Jammu and Kashmir)سول سروسز ایکٹ 2010 کی شق 15 کے تحت شامل کیا گیا ہے۔ ساتویں شق میں اسپائوس آف ڈومیسائل کاجزجوڑاگیا ہے۔

اس میں نہ تو #شوہر اور نہ ہی #بیوی کا ذکر ہے۔ یعنی قواعد میں ترمیم کرنے کا فائدہ چاہے #داماد ہو یا بہو دونوں کو ملے گا۔ڈومیسائل سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لئے درخواست دہندہ کو اپنے شریک حیات کا ڈومیسائل سرٹیفکیٹ اور #نکاح نامہ پیش کرنا ہوگا۔ اس کے بعد تحصیلدار کے ذریعہ درخواست دہندہ کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔ پہلے یہ قاعدہ تھا کہ جموں و کشمیر میں 15 سال رہنے اور خدمات انجام دینے کے بعد ڈومیسائل سرٹیفکیٹ حاصل ہوتاتھا۔

در اصل جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 اور 35اے کو منسوخ کرنے کے باوجود ڈومیسائل سرٹیفکیٹ (Domicile certificate) رکھنے والے سے شادی کرنے کے بعد بھی #ڈومیسائل #سرٹیفکیٹ دستیاب نہیں ہورہا تھا۔ دوسری ریاستوں کی خواتین کے لئے کوئی واضح اصول موجود نہیں تھے جو #شادی کے بعد جموں و کشمیر میں رہتی ہیں لیکن اب یہ مسئلہ حل ہو گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button