بین ریاستی خبریں

ناسک: شادی کا کارڈ سامنے آنے پراٹھاتھا’لو جہاد‘ کا معاملہ ، جوڑے نے آخر کاررچائی شادی

ناسک، 24 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ناسک کی ایک 28 سالہ لڑکی کی شادی ایک مسلم لڑکے سے کرنے کی بات سامنے آنے کے بعداس کولے کر سوشل میڈیا میں کافی ہنگامہ کھڑا ہواتھا۔کچھ لوگوں نے اس کو #لو-جہاد‘ کا معاملہ بتاکر احتجاج کیا۔ اس کے بعد لڑکی کے لواحقین کو #شادی ردکرنی پڑی۔ اب اس #جوڑے کی جمعرات کو شادی ہوگئی۔

انڈین ایکسپریس (The Indian Express) کی رپورٹ کے مطابق رسیکا اڈگانونکر (Rasika Adgaonkar)اور آصف خان نے جمعرات کے روز ناسک کے ایک ہوٹل میں دونوں مذاہب کے رسم و رواج کے مطابق شادی کرلی۔ اس سے قبل یہ شادی 18 جولائی کو ہونی تھی لیکن احتجاج کی وجہ سے اسے ملتوی کرنا پڑا۔ لڑکی کے والد پرساد اڈگائونکر نے کہا کہ پہلے بہت زیادہ غلط فہمی اور نفرت تھی لیکن جب لوگوں کو حقیقت کے بارے میں معلوم ہوا تو ہمیں بہت حمایت ملی، ہمیں خوشی ہے کہ لوگ سمجھ گئے کہ سوشل میڈیا پر #پیغامات میں جو کچھ کہا جارہا تھا وہ غلط تھا، یہ لو جہاد (Love Jihad) یا جبرا تبدیلی مذہب کا معاملہ نہیں تھا۔

دراصل اس شادی کا کارڈ سوشل میڈیا پر #وائرل ہوگیا تھا اور اسے بہت سے واٹس ایپ گروپس میں شیئر کیا گیا تھا۔ اس کے بعد لڑکی کے گھر والوں کو لوگوں کی کالیں آنے لگیں اور انہوں نے اس شادی کو ’لو جہاد‘ کا معاملہ قرار دیا۔ احتجاج کے بعد لڑکی کے والد پرساد اڈگونکر نے دباؤ میں آکر شادی منسوخ کردی۔ اڈگاونکر شہر کے معروف جواہرات #تاجروں میں سے ایک ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button