
لکھنؤ، 29 جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مرکزی حکومت نے اے ٹی ایس کے ذریعہ گرفتارمبینہ القاعدہ دہشت گردوں کے معاملے کی #تحقیقات این آئی اے کے حوالے کردی ہے۔ اب این آئی اے کی خصوصی ٹیم اس معاملے میں گرفتار تینوں دہشت گردوں سے پوچھ گچھ کرے گی۔ساتھ ہی اس معاملے کے بیرونی تعلقات کی بھی جانچ کی جائے گی۔ این آئی اے یہ جاننے کی بھی کوشش کرے گی کہ ان دہشت گردوں کا نشانہ کون سے لیڈر تھے۔
لکھنؤ اے ٹی ایس نے رواں ماہ 11 جولائی کومبینہ طورپر دہشت گرد #تنظیم #القاعدہ سے وابستہ تنظیم انصار غزوات الہند سے وابستہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا تھا۔ ان کے نام مشیرالدین،منہاج اور شکیل بتائے گئے تھے۔چھاپے کے دوران اے ٹی ایس نے ان کے پاس سے پریشر #کوکر #بم بنانے کا سامان وغیرہ برآمد کیاتھا۔
یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان لوگوں کا ہجوم والی جگہ یا لیڈر کی ریلی پر بمباری کا منصوبہ تھا۔ لکھنؤ میں گرفتار ان دہشت گردوں سے پوچھ گچھ کے دوران ایک بڑا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق جب دہشت گردوں نے اپنے آقا عمر المندی کو بتایا کہ وہ #بم بنانا نہیں جانتے ہیں، تو انہیں #انٹرنیٹ کے ذریعے بم بنانے کی تربیت دی گئی۔



