
نئی دہلی2اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پیگاسس جاسوسی کیس میں ایک نیا موڑآگیاہے۔جاسوسی کے لیے ممکنہ فہرست میں شامل ہونے والے مبینہ طور پر پانچ صحافیوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیاہے۔ انہوں نے #سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ وہ مرکز کو #اسپائی ویئر کے استعمال سے متعلق تمام تفصیلات ظاہر کرنے کی ہدایت کرے۔
اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت اس کے استعمال کو غیر قانونی قرار دے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ سرکاری اداروں کی جانب سے نگرانی کے غیر مجاز استعمال نے ان کے بنیادی #حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔ پیگاسس سپائی ویئر کا استعمال کرتے ہوئے ان کے #موبائل فونز کی مبینہ ہیکنگ سے براہ راست متاثر ہونے اور ذاتی طور پر متاثر ہونے کا دعویٰ کرنے والے افراد کی یہ پہلی درخواست ہے۔
درخواست گزاروں میں پرانجوئے گوہا ٹھاکرتا ، ایس این ایم عابدی ، پریم شنکر جھا ، روپیش کمار سنگھ اور ایپسا شتاکشی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے کیے گئے ان کے موبائل #فونز کی فارنسک جانچ سے معلوم ہوا ہے کہ انہیں (موبائل فون) پیگاسس کا استعمال کرتے ہوئے نشانہ بنایاگیا۔
درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس یہ یقین کرنے کی مضبوط وجوہات ہیں کہ انہیں حکومت ہند یا کسی دوسرے تیسرے فریق کی جانب سے شدید دخل اندازی اور ہیکنگ کانشانہ بنایاگیاہے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ میں تین درخواستیں دائر کی جاچکی ہیں ، جن پر چیف #جسٹس (سی جے آئی) این وی رمناکی بنچ جمعرات کوسماعت کرے گی۔













