تلنگانہ کی خبریں

معاوضہ کی ادائیگی سے مرنے والا زندہ نہیں ہوگا۔چیف جسٹس ہائی کورٹ کا ریمارک

لاک اپ میں خاتون کی موت مقدمہ کی سماعت

حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ جسٹس ہیما کوہلی نے حکومت سے سوال کیا کہ معاوضہ کی ادائیگی سے کیا مرنے والے واپس لایا جاسکتا ہے؟ بھونگیر ضلع کے اڈہ گوڈور پولیس اسٹیشن میں مریماں نامی خاتون کی لاک اپ موت معاملہ کی آج ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی ۔ #ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد نے عدالت کو بتایا کہ مریماں کی نعش کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے اور لواحقین کو 15 لاکھ روپئے ایکس گریشیا ادا کیا گیا۔
اس کے علاوہ خاندان کے ایک فرد کو روزگار فراہم کیا گیا ہے ۔ ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ واقعہ میں ملوث سب انسپکٹر اور دو #کانسٹبلس کو معطل کیا گیا۔ اس مرحلہ پر چیف جسٹس #ہیما کوہلی نے سوال کیا کہ ملک میں کیا اس طرح کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آلیر مجسٹریٹ کی #تحقیقاتی رپورٹ کے بعد #ہائی کورٹ اس معاملہ کی جانچ کرے گا ۔
انہوں نے حکومت کو ہدایت دی کہ #مجسٹریٹ کی رپورٹ کے چار ہفتوں میں جوابی حلفنامہ داخل کرے۔ ہائی #کورٹ میں اس مقدمہ کی آئندہ سماعت 15 ستمبر کو ہوگی ۔ #کھمم ضلع کے چنتاکانی منڈل سے تعلق رکھنے والی مریماں کو 18 جون کے دن دو لاکھ روپئے سرقہ کے الزام میں پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ اس سے قبل مریماں کے فرزند اودے کرن کو حراست میں لیا گیا ۔
پولیس نے تفتیش کے دوران تھرڈ ڈگری استعمال کیا جس کے نتیجہ میں مریماں کی موت واقع ہوگئی جبکہ فرزند کو زخمی حالت میں علاج کے لئے ہاسپٹل منتقل کیا گیا ۔ اپوزیشن اور دلت تنظیموں کے احتجاج کے بعد حکومت نے خاطی عہدیداروں کی معطلی اور لواحقین کیلئے ایکس گریشیا اورملازمت کا اعلان کیا۔ چیف منسٹر نے اس مسئلہ پر پرگتی بھون میں اپوزیشن قائدین کے ساتھ اجلاس منعقد کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button