
نامردی کا جھوٹا الزام طلاق کی بنیاد ، سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا
نئی دہلی، 5 اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کے جوڑے کے درمیان طلاق کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ اس سے قبل جوڑے نے نچلی عدالت کے طلاق دینے کے حکم کو #دہلی ہائی #کورٹ میں چیلنج کیا تھا جسے دہلی ہائی کورٹ نے برقرار رکھا تھا۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ میاں بیوی پر نامردی کے بے بنیاد اور جھوٹے #الزامات لگانا ظلم کے مترادف ہے اور اسی بنیاد پر #طلاق دی جا سکتی ہے۔
جسٹس ایل ناگیشور راؤ اور جسٹس انیرودھ بوس کی بنچ نے ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا اور ایک ایسی #خاتون کی درخواست خارج کر دی جس نے اپنے شوہر کے خلاف عدالت میں الزامات لگائے تھے۔ خاتون نے شوہر کی درخواست پر دئے گئے طلاق کو چیلنج کیا تھا۔ جوڑے نے سال 2012 میں شادی کی۔دراصل نچلی عدالت میں خاتون نے الزام لگایا تھا کہ اس کا شوہر نامردی کے مسئلے سے دوچار ہے اور یہ #شادی نہ چل پانے کی اصل وجہ تھی۔
اس کے علاوہ خاتون نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس کے #سسرال والے جھگڑالو ہیں، جہیز کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جہیز کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے سسرال والوں نے اس کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا اور اس کے شوہر نے سسرال والوں کے سامنے اسے بری طرح پیٹا۔ اس کے بعد اس شخص نے اپنے اوپر جھوٹے الزامات لگانے کے لیے ظلم کی بنیاد پر طلاق مانگی تھی۔
Zebronics Zeb Power Wired Mouse
₹129.00













