تلنگانہ کی خبریں

مولانا عبدالعلیم اصلاحی کی دختران کو سمن تعمیل کرنے کی کوشش

سی سی ایس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی علاقہ میں آمد سے سعید آباد میں ہلکی کشیدگی

حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سی سی ایس کی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم نے آج مولانا عبدالعلیم اصلاحی کے مکان پہنچ کر ان کی دختران کو بغاوت مقدمہ میں عدالت کے سمن تعمیل کرنے کی کوشش کی ۔ پولیس کی اس کارروائی کے بعد علاقہ میں پولیس کے خلاف شدید ناراضگی پائی گئی۔ تفصیلات کے مطابق ایودھیا بابری مسجد مقدمہ کے فیصلہ کے خلاف سعید آباد کی خواتین نے 14 نومبر 2019 ء کو ایک احتجاجی پروگرام منعقد کیا تھا اور اس میں عدالت اور حکومت کی مبینہ جانبداری کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا۔

مولانا عبدالعلیم اصلاحی کی دو #دختران ظل ہما اور شبستہ کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 123-A (بغاوت) ، 153-A/B (دونوں فرقوں کے درمیان منافرت پیدا کرنا) اور 295-A (مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا) کے تحت مقدمہ سعید آباد پولیس نے درج کیا تھا ۔ تحقیقات کیلئے سی سی ایس کی ایس آئی ٹی کو تبادلہ کردیا گیا۔ کیس کے سلسلہ میں ایس آئی ٹی کی ایک ٹیم آج جیون یار جنگ کالونی سعیدآباد مولانا عبدالعلیم اصلاحی کے مکان گئی اور عدالت کے سمن کی تعمیل کرنے کی کوشش کی لیکن سمن میں اندراج ناموں کے خواتین وہاں موجود نہ ہونے پر ایس آئی ٹی حکام نے سمن کو دروازہ پر چسپاں کردیا۔

اس سلسلہ میں معلومات کیلئے ربط پیدا کرنے پر انسپکٹر سعید آباد نے کہا کہ ایس آئی ٹی سب انسپکٹر وجئے کمار کی زیر قیادت ایک ٹیم مولانا عبدالعلیم اصلاحی کے مکان گئی تھی اور سمن تعمیل کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی ٹی پھر ایک مرتبہ مکان پہنچ کر سمن تعمیل کرنے کی کوشش کریگی ۔ ایس آئی ٹی و مقامی پولیس کی جانب سے کارروائی کے بعد علاقہ میں سنسنی پھیل گئی۔

پولیس کی اس کارروائی پر #مولانا #اصلاحی نے اپنے بیان میں کہا کہ دیڑھ سال قبل ان کی دو بیٹیوں کے خلاف پولیس نے #بغاوت کا مقدمہ درج کیا تھا اور بابری مسجد کے فیصلہ کے خلاف ایک دعائیہ اجتماع منعقد کیا گیا تھا ۔ دیڑھ سال کے بعد پولیس کی جانب سے سمن لے کر علاقہ میں پہنچ کر عوام میں تشویش پھیل گئی ہے ۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ انتظامی اور پولیس #ایجنسیوں کی جانب سے انہیں طویل عرصہ سے ہراساں کیا جارہا ہے اور جھوٹے مقدمات میں انہیں اور ان کے افراد خاندان کو ماخوذ کیا جارہا ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button