نئی دہلی ،11؍اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پارلیمنٹ کا مانسون سیشن آسانی سے نہیں چل سکا۔ آج #لوک سبھا بھی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ دراصل #اپوزیشن #پیگاسس #جاسوسی #اسکینڈل، زرعی قانون، بے روزگاری، مہنگائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتی رہی۔ #پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی ہوئی، جس کی وجہ سے کارروائی آسانی سے نہیں چل سکی۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ سیشن کی کارروائی توقعات کے مطابق نہیں تھی۔
مسلسل رکاوٹ کے نتیجے میں صرف 22 فیصد کام ہوا ۔ سیشن کے دوران آئین کے 127 ویں ترمیمی بل سمیت کل 20 بل منظور کیے گئے۔ 66 سوالات کا زبانی جواب دیا گیا۔ ارکان نے رول 377 کے تحت 331 معاملات اٹھائے۔ اس بار 21 گھنٹے 14 منٹ کام ہوا۔ 96 گھنٹوں میں سے مجموعی طور پر 74 گھنٹے اور 46 منٹ کا کام نہیں کیا ہوسکا۔ 20 #بل منظورہوئے مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو #پارٹی دو سال تک اپنے صدر کا انتخاب نہیں کر سکی۔ جن کے ممبران اسمبلی اپنے ہی سرکاری بل پھاڑدیں۔
جو پارٹی ایوان چلنے نہ دے۔ سڑک پر بھی جو کرنے میں لوگ شرم محسوس کرتے ہیں وہ ایوان میں کیا جائے ، سوچیں کہ کتنا جمہوریت کو شرمسارکرنے کا کام کیا جا رہا ہے۔ ملک کے جن لوگوں کو بطور رکن پارلیمنٹ بھیجا گیا ہے، وہ اپنے مسائل اٹھانے کے لیے فائلیں پھینک دیتے ہیں، ہنگامہ کھڑا کرتے ہیں۔ ایوان چلانے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں لیکن جب بحث ہوتی ہے تو یہ لوگ حصہ نہیں لیتے۔ کل راجیہ سبھا میں کیا ہوا، پہلے وزیر کا بیان پھاڑ دیا گیا۔ پھر میز پر چڑھ کر راجیہ سبھا اسپیکر کی کرسی پر فائل پھینک دی گئی، یہ شرمناک ہے۔



