نئی دہلی ،12؍اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)انتخابی مہم کے دوران #پلاسٹک کے استعمال کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے #سپریم کورٹ نے کہا کہ توقع ہے کہ مرکزی حکومت انتخابی مہم میں پلاسٹک پر پابندی کے لیے جلد قوانین لائے گی۔ دوسری جانب مرکزی حکومت کی طرف سے پیش ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) ایشوریا بھاٹی نے عدالت کو بتایا کہ وزارت جنگلات اور ماحولیات (ایم او ای ایف) نے مارچ 2021 میں ایک مسودہ #نوٹیفکیشن تیار کیا ہے، جس کے مطابق پی 100 مائیکرون سے کم والے وی سی سمیت پلاسٹک پر #پابندی عائد کی جائے گئی ۔
اے ایس جی نے عدالت کو بتایا کہ یہ مسودہ عام کیا گیا ہے اور اس حوالے سے ایڈوائزری بھی جاری کی گئی ہے، لیکن درخواست گزار نے کہا کہ ایڈوائزری کافی نہیں ہے۔ درخواست گزار نے کہا کہ پلاسٹک کی پابندی کو #انتخابی ضابطہ اخلاق میں شامل کیا جائے۔ سپریم کورٹ 8 ہفتوں کے بعد اس معاملے کی دوبارہ سماعت کرے گا۔سپریم کورٹ نے جنوری 2020 میں مرکز اور الیکشن کمیشن آف انڈیا سے انتخابات کے دوران پلاسٹک کے استعمال، خاص طور پر بینرز اور ہورڈنگز کے خلاف درخواست پر جواب مانگا تھا۔
جسٹس ایل ناگیشور راؤ کی سربراہی میں بنچ نے وزارت ماحولیات و #جنگلات اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چار ہفتوں میں ان سے جواب طلب کیا تھا۔ عدالت عظمیٰ ڈبلیو ایڈون ولسن کی جانب سے نیشنل گرین ٹریبونل کے حکم کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کر رہی ہے جس میں الیکشن کمیشن آف انڈیا اور تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف الیکٹورل افسران سے کہا گیا ہے کہ وہ پلاسٹک کے استعمال کے خلاف مشوروں کی تعمیل کی نگرانی کریں۔
درخواست میں کہا گیا کہ این جی ٹی نے انتخابات میں پی وی سی بینرز کے استعمال پر پابندی کے اہم مسئلے پر موثر حکم نہیں دیا جو کہ بہت بڑا خطرہ ہے۔ ولسن نے دعویٰ کیا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران پلاسٹک سے بنے مواد کو استعمال کیا جاتا ہے اور بعد میں فضلہ کے طور پر پھینک دیا جاتا ہے جو کہ ماحول کے لیے نقصان دہ ہے۔



