بین ریاستی خبریںجرائم و حادثات

ممبئی سائبر سیل نے کیاسوشل میڈیاپرسرگرم جنسی استحصال گینگ کا پردہ فاش 100 سے زیادہ مشہور شخصیات کوبنایاتھا نشانہ

ممبئی، 13 اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ممبئی پولیس کی سائبر سیل نے ایک ایسے گروہ کا پردہ فاش کیا ہے جس نے 100 سے زیادہ اے مشہورشخصیات کو سیکسٹورشن (جنسی استحصال) کا شکار بنایا ہے۔ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ اس گروہ میں ایک نابالغ بھی شامل ہے۔ سائبر سیل کی ڈی سی پی ریشمی کاراندیکر نے بتایا کہ اب تک ان لوگوں نے 285 افراد کو اپنا شکار بنایا ہے۔

اب ان کے موبائل اور دیگر الیکٹرانک آلات کی بھی جانچ جاری ہے۔ پولیس نے ان ملزمان کو مہاراشٹر کے ناگپور، اتر پردیش، اڈیشہ اور گجرات سے گرفتار کیا ہے۔کارانڈیکر نے بتایا کہ ملزمان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جعلی اکاؤنٹس بناتے تھے جو کہ لڑکیوں کا روپ دھار کر مردوں کو راغب کرتے تھے، زیادہ تر ہائی پروفائل اور امیر لوگوں کونشانہ بناتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزم نے 12 جعلی اکاؤنٹس اور چھ جعلی ای میل آئی ڈی بنائے تھے، جو لوگوں سے دوستی کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔ملزمان نے پوچھ گچھ کے دوران یہ بھی بتایا کہ انہوں نے لوگوں کا اعتماد جیتنے کیلئے 6-6 ماہ تک بھی دوستی برقرار رکھی تھی اور ایک بار جب وہ اعتماد جیت گئے تو وہ وی ڈی او کو فون کرتے تھے اور پھر ان سے #کپڑے #اتارنے کیلئے کہا جاتا تھا، جس کے بعد وہ ہدف کاکپڑے اتار کر #اسکرین شاٹ لیتے تھے اور پھر بلیک میلنگ کا کام شروع ہو جاتا تھا۔

ان ملزمان نے 100 سے زیادہ اے لسٹڈ سلیبریٹیز کو نشانہ بنایا ہے جن میں بالی ووڈ کے مشہور اداکاروں کے نام بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس گینگ نے خواتین اور مرد ماڈلز کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ یہ گینگ زیادہ تر انسٹاگرام پر سرگرم ہے، جہاں یہ لوگ ہدف بنانے کاکام کرتے تھے۔تفتیش کے دوران ملزم نے پولیس کو بتایا کہ یہ لوگ ان ویڈیوز کی بنیاد پر ہدف کو بلیک میل کرکے پیسہ جمع کرتے تھے اور پھر یہ لوگ ٹوئٹر پر ڈی ایم کے ذریعے ان ویڈیوز کو فروخت بھی کرتے تھے۔

پولیس نے بتایا کہ یہ لوگ #ٹویٹر پر ان #ویڈیوز #کلپ پوسٹ کرتے تھے۔ اس کے بعد جس کو بھی ان ویڈیوز کو دیکھنا تھا، وہ انہیں براہ راست پیغام بھیجتا تھا اور پھر یہ لوگ ہر ویڈیو دیکھنے کے لیے #فیس لیتے تھے۔تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزم نیپال کے ایک بینک کا اکاؤنٹ پیسوں کے لین دین کے لیے استعمال کرتا تھا۔ تحقیقاتی ایجنسیوں کے رڈار سے بچنے کے لیے یہ لوگ #بلیک میلنگ کے ذریعے موصول ہونے والی رقم کو چھپانے کے لیے نیپال کے بینک کا سہارا لیتے تھے۔

وہ جانتے تھے کہ اگر پولیس کو پتہ چل جائے اور بینک اکاؤنٹ انڈیا کا ہو تو اکاؤنٹ منجمد ہو جائے گا اور پیسے دستیاب نہیں ہوں گے۔ اس کی وجہ سے ہندوستان کے کھاتے کے علاوہ یہ لوگ نیپال کے ایک بینک اکاؤنٹ کا بھی سہارا لیتے تھے، جہاں سے وہ اپنی تمام رقم جمع کراتے تھے۔ پولیس نے اب #نیپال انتظامیہ کو اس بارے میں آگاہ کیا ہے تاکہ اس بینک کے اکاؤنٹ کی تفصیلات مل سکیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button