
اپوزیشن اتحاد کیلئے سونیا گاندھی کی پہل 20 اگست کو میٹنگ میں ممتابنرجی ادھوٹھاکرے سمیت کئی پارٹیوں کے لیڈران ہوں گے شامل
نئی دہلی، 13 اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی 20 اگست کو ورچوئل میٹنگ کی صدارت کرنے جارہی ہیں۔ اس میں اپوزیشن جماعتوں اور کانگریس کی حکمرانی والی ریاستوں کے وزراء اعلیٰ کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ ذرائع کے حوالے سے بتایاگیا کہ اس میٹنگ میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، شیو سینا کے سربراہ اور مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے، تمل ناڈو کے سی ایم اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کے اسٹالن کے ساتھ ساتھ جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے ورکنگ صدر ہیمنت سورین بھی شریک ہوں گے۔
#شیو سینا لیڈر سنجے راوت نے بتایا کہ #ٹھاکرے #ویڈیو لنک کے ذریعے میٹنگ میں شرکت کریں گے۔ کانگریس مہاراشٹر میں شیو سینا اور این سی پی کے ساتھ حکمران اتحاد کا حصہ ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے چیف ترجمان نواب ملک نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ ان کی پارٹی کو میٹنگ کے لیے بلایا گیا ہے یا نہیں۔ اگر اسے بلایا جائے تو وہ اس بات سے بھی آگاہ نہیں ہے کہ پارٹی کی طرف سے کوئی شمولیت ہوگی یا نہیں۔
#سونیا گاندھی کی جانب سے یہ میٹنگ ایک ایسے وقت میں منعقد کی جارہی ہے جب #کانگریس اور دیگر جماعتوں کی طرف سے بی جے پی سے مقابلہ کرنے کے لیے #اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مانسون سیشن اپنے مقررہ وقت سے دو دن پہلے ختم ہوگیا اور پورے سیشن کے دوران اپوزیشن #جماعتیں نریندر #مودی حکومت پر مسلسل حملے کر رہی تھیں۔پورے سیشن کے دوران ایک درجن سیاسی جماعتوں کے ارکان #پارلیمنٹ نے باقاعدہ طور پر راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف #ملکاارجن کھرگے سے ملاقات کی تاکہ دن کی پارلیمانی کارروائی کے لیے اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جائے۔
راہل گاندھی بھی ایسی ہر میٹنگ میں موجود تھے۔ راہل نے مانسون سیشن کے دوران اپوزیشن جماعتوں کے تقریبا 100 ارکان پارلیمنٹ کو ناشتے پر میٹنگ میں مدعو کیا تھا، جہاں قائدین نے بی جے پی کے جھوٹ کواجاگر کرنے کے لیے اپوزیشن اتحاد پر زور دیا۔



