قومی خبریں

ایئر فورس نے ویکسین سے انکار کرنے والے کارکن کو کیا برخواست

مرکزی حکومت نے گجرات ہائی کورٹ میں دی معلومات

نئی دہلی، 13 اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ہندوستانی فضائیہ نے اپنے ایک اہلکار کو کووڈ 19 ویکسین لینے سے انکار کرنے پر ملازمت سے برخاست کر دیا ہے۔ گجرات ہائی کورٹ میں اس کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے مرکزی حکومت نے کہا کہ سروس کی شرائط کے مطابق اینٹی کووڈ 19 #ویکسین لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ایئر فورس کارپورل یوگیندر کمار نے ہائی کورٹ میں ایک عرضی داخل کی تھی، جس کے بعد مرکز نے عدالت میں یہ جواب داخل کیا ہے۔

ایڈیشنل سالیسٹر جنرل دیوانگ ویاس نے جسٹس اے جے دیسائی اور جسٹس اے پی ٹھاکر کے ڈویژن بنچ کو بتایا کہ ملک میں ایسے نو اہلکاروں کو وجہ بتائو نوٹس جاری کیاگیاہے جنہوں نے ویکسین لینے سے انکار کیا۔ اس نوٹس کا جواب نہ دینے والے ملازمین میں سے ایک کو برطرف کر دیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے برطرف ملازم کا نام یا کوئی اور تفصیلات نہیں بتائی۔ایڈیشنل سالیسٹر جنرل دیوانگ ویاس نے ہائی کورٹ کو بتایاکہ ملک بھر میں ہندوستانی فضائیہ کے نو اہلکاروں نے کوویڈ ویکسین لینے سے انکار کیا تھا۔

ان سب کو وجہ بتاو نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ ان نو اہلکاروں میں سے ایک نے اس نوٹس کا جواب دیا،اس لئے جواب نہ دینے پر اسے نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک ویکسین کا تعلق ہے، یہ عام لوگوں کے لیے اختیاری ہے۔ تاہم فضائیہ میں ہر ایک کے لیے اسے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ اس وعدے کا حصہ ہے جو #فضائیہ کے #جوان #سروس میں شامل ہونے سے پہلے دیتے ہیں۔دیوانگ ویاس نے عدالت کو بتایا کہ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ فضائیہ کو کمزور پوزیشن میں نہیں رکھا جا سکتا اور یہ ضروری ہے کہ اہلکاروں کو لازمی ویکسین دی جائے۔

نیز انہوں نے کہاکہ کارپورل یوگیندر کمار نے شو کاز نوٹس کا جواب دیا ہے، اس لئے وہ متعلقہ اتھارٹی یا آرمڈ فورسز ٹریبونل کے سامنے پیش ہو سکتے ہیں۔بتادیں کہ کارپورل یوگیندر کمار نے کوویڈ 19 کو ویکسین لینے میں اپنی ہچکچاہٹ کے بعد جاری نوٹس کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت میں ایک #درخواست #دائر کی تھی، جس کے بعد عدالت نے کہا تھا کہ ایسے معاملات میں عبوری راحت دی جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button