سننداپشکر موت معاملہ : دہلی کی عدالت میں ششی تھرور الزام سے بری-سننداپشکر کی موت کے معاملے میں انصاف ہوا ، مجھے کئی بے بنیاد الزامات کا سامنا کرنا پڑا: تھرور
نئی دہلی،18؍اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ #ششی تھرور جنہیں سنندا پشکر موت کیس میں ملزم بنایا گیا تھا،ان کو دہلی کی ایک عدالت نے بری کردیا ہے۔ #سننداپشکر تھرور کی بیوی تھیں۔ 17 جنوری 2014 کو سننداپشکر کی دہلی کے ایک فائیو اسٹار #ہوٹل میں پراسرار طور پر موت ہوگئی۔ اپنی موت سے کچھ دن پہلے سننداپشکر نے #الزام لگایا تھا کہ تھرور کے #پاکستانی خاتون #صحافی کے ساتھ تعلقات تھے۔
سننداکی موت کے معاملے میں دہلی پولیس نے ششی تھرور کو ملزم بنایا تھا اور ان کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 307، 498 اے کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، لیکن سات سال بعد دہلی کی رائوج ایوینیو کورٹ نے تھرور کو تمام الزامات سے #بری کردیا۔ عدالت سے راحت ملنے کے بعد تھرور نے کہا کہ اس نے ساڑھے سات سال اذیت میں گزارے۔ تاہم ششی تھرور اس معاملے میں ایک بار بھی گرفتار نہیں ہوئے اور انہیں ضمانت ملتی رہی ہے۔
سننداپشکر کی موت کے معاملے میں انصاف ہوا ، مجھے کئی بے بنیاد الزامات کا سامنا کرنا پڑا: تھرور
کانگریس کے سینئر لیڈر ششی تھرور نے بدھ کے روز کہا کہ ان کی بیوی سننداپشکر کی موت کے معاملے میں انہیں عدالت سے بری کرنے کے بعد انصاف دیا گیا ہے، حالانکہ انہیں بے بنیاد الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ جج سے اظہار تشکر کرتے ہوئے تھرور نے کہا کہ پچھلے ساڑھے سات سال اذیت میں گزرے ہیں اور اس فیصلے سے بہت بڑی راحت آئی ہے۔فیصلے کے بعد تھرور نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ میں جسٹس گیتانجلی گوئل جی کا ان کے فیصلے کے لیے شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔
یہ فیصلہ اس ڈراؤنے خواب میں اختتام پذیر ہوا جس سے مجھے اپنی بیوی سنندا پشکر کی موت کے بعد گزرنا پڑا۔تھرور کے مطابق مجھے بہت سے بے بنیاد الزامات کا سامنا کرنا پڑا اور میڈیا کی جانب سے بدنامی کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن مجھے عدلیہ پر مکمل اعتماد تھا۔ میرے موقف کی آج تصدیق ہوگئی۔ہمارے عدالتی نظام میں عمل اکثر سزا بن جاتا ہے۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ انصاف ہوچکا ہے اور ہمارا پورا خاندان سننداکی روح کے سکون کیلئے دعا کرے گا۔انہوں نے اپنے وکلاء کا بھی شکریہ ادا کیا۔سنندا پشکر 17 جنوری 2014 کی رات شہر کے ایک لگژری ہوٹل کے کمرے میں مردہ پائی گئی۔ جوڑا ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا کیونکہ اس وقت تھرور کے سرکاری بنگلے کی تزئین و آرائش کاکام جا ری تھا۔



