قومی خبریں

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی وضاحت: طالبان پر کچھ نہیں کہا، ممبران کے بیان سے خود کو کیا الگ

نئی دہلی، 18 اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)طالبان کی افغانستان میں اقتدار میں واپسی اور اس کے بعد آل #انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) کے ایک رکن کی طرف سے تعریف نے تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ اس کے بعد اے آئی ایم پی ایل بی کو خود آکر پورے معاملے کی وضاحت کرنی پڑی۔ ہندوستانی مسلمانوں کی بڑی تنظیم نے سارا الزام میڈیا پر ڈالا ہے۔

اے آئی ایم پی ایل بی نے ٹوئٹر پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے طالبان اور افغانستان کی سیاسی صورتحال پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ کچھ میڈیا چینلز کچھ بورڈ ممبران کی ذاتی رائے کو بورڈ کے موقف کے طور پر لے رہے ہیں اور بورڈ کو غلط کام کے لیے مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔

یہ صحافتی اقدار کے خلاف ہے۔ اے آئی ایم پی ایل بی نے مزید کہا کہ میڈیا چینلز کو اس طرح کی کارروائیوں سے گریز کرتے ہوئے طالبان کی خبروں کو بورڈ کے ساتھ نہیں جوڑنا چاہیے۔دراصل سارا تنازعہ پیدا ہوا اور مسلم پرسنل لا بورڈ کواس لئے وضاحت کے لیے آنا پڑا کیونکہ اے آئی ایم پی ایل بی کے رکن مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے طالبان کو ان کی جیت پر مبارکباد دی ہے۔یہی نہیں نعمانی نے طالبان کو سلام بھی کیا ہے۔

#آل انڈیا #مسلم #پرسنل لاء بورڈ کے رکن مولانا خلیل الرحمن سجاد #نعمانی نے #طالبان کے بارے میں کہا کہ ہندوستانی مسلمان آپ کو سلام کرتا ہے۔ نعمانی نے طالبان کے حق میں بیان جاری کیا ہے۔اس سے قبل یوپی کے سنبھل سے سماج وادی #پارٹی کے رکن شفیق الرحمن برق نے طالبان کا موازنہ آزادی پسندوں سے کیا ہے۔ برق کے اس بیان پر اب یوپی پولیس نے ان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button