قومی خبریں

عوام پرمہنگائی کی مار،گیس سلنڈر کی قیمت میں پھر اضافہ

مرکزی حکومت کو مہنگائی سے بے حال لوگوں کی کوئی پرواہ نہیں :کانگریس

نئی دہلی، 18 اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ملک میں ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں ایک بار پھر 25 روپے کا اضافہ ہوا ہے اور کانگریس نے اس کے لیے ایک بار پھر مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ مہنگائی کے مسئلہ پر مرکزی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کانگریس کے پلیٹ فارم سے #کانگریس کی خواتین ترجمانوں نے کہا کہ ایک طرف عوام مہنگائی سے دوچار ہے اور دوسری طرف مرکزی حکومت لاپرواہ ہے۔ مرکزی حکومت کا عوام کے مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور اسی وجہ سے ضروری چیزوں کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں لیکن مرکزی حکومت اس طرف توجہ نہیں دے رہی ہے۔

ایل پی جی #سلنڈر کی قیمتوں میں اضافے پر سوال اٹھاتے ہوئے کانگریس کی ترجمان سپریہ شریانیت نے کہا کہ عوام کی پریشانیوں سے مرکزی حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا ہے۔ ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں 25 روپے اضافے کے بعد اب ملک کے کئی حصوں میں قیمت 1000 روپے فی سلنڈر سے تجاوز کر گئی ہے اور یہ صورتحال جب ہے جب قیمت بین الاقوامی مارکیٹ کے مطابق دیکھا جائے تو قیمت صرف 600 روپے کے آس پاس ہونی چاہیے ۔یعنی واضح طور پر مرکزی حکومت ٹیکس کے نام پر عوام کی جیبوں سے پیسہ اکٹھا کر رہی ہے اور عوام کو تکلیف ہو رہی ہے۔

کانگریس ترجمان نے کہا کہ نہ صرف ایل پی جی سلنڈروں کی حالت بلکہ تیل کی قیمتوں میں بھی آگ لگی ہوئی ہے۔ مرکزی حکومت اس پر زیادہ توجہ نہیں دینا چاہتی۔ کانگریس کے پلیٹ فارم سے مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا کہ جب منموہن سنگھ کی حکومت تھی بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت تقریبا 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، لیکن اس کے باوجود پٹرول کی قیمت ہندوستانی مارکیٹ میں 70 روپے فی بیرل پہنچی تھی تو اپوزیشن پارٹی بی جے پی نے اس وقت ہنگامہ کھڑا کردیاتھا۔

لیکن آج جب بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی #بیرل کے قریب ہے، تب ملک میں پٹرول 100 روپے فی لیٹر سے زائد قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے۔کانگریس کی جانب سے کہا گیا کہ جب منموہن #سنگھ کی حکومت تھی اس دوران #تیل بانڈز کے ذریعے ایک لاکھ کروڑ روپے سے زائد رقم اکٹھی کی گئی اور #سبسڈی دی گئی تاکہ عوام پر بوجھ نہ پڑے لیکن مرکز کی مودی حکومت نے پچھلے 7 سالوں کے دوران پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر ٹیکس جمع کرکے 23 لاکھ کروڑ سے زائد کمائے ہیں، اس کے باوجود وہ عوام کو راحت دینے کے لیے کوئی قدم اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button