سوانح حیات فلمی و اسپوریٹس

83/ورلڈ کپ کے بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک وکیٹ کیپر بلے باز۔سیدکرمانی

سلام بن عثمان

سید #مجتبیٰ حسین #کرمانی جنھیں #کرکٹ کی #دنیا میں کرمانی اور کری سے جانا جاتا ہے 19 دسمبر 1949 میں مدراس (چنائی) میں پیدا ہوئے۔ تعلیم #سینٹ جرمن اکیڈیمی اور سینٹ جوزف انڈین ہائی اسکول سے ہوئی اور پی یو کالج سے ڈگری حاصل کی۔ سید کرمانی کو بچپن سے ہی #کرکٹ سے دلچسپی تھی۔ انھوں نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا "جب وہ دس برس کے تھے۔ ان کے علاقہ میں مشہور بھائی ہوا کرتا تھا۔ ادئے شیٹھی، ان کو بھی کرکٹ سے بہت دلچسپی تھی۔ ادئے شیٹھی نے اپنے شوق کے لئے کرکٹ ٹیم بنائی جس میں کرمانی کو بھی لیا گیا۔

ادئے شیٹھی ٹیم کے کیپٹن تھے اور کرمانی سب سے چھوٹے ہونے کی وجہ سے انھیں #وکٹ کیپر بنایا گیا۔” سید کرمانی کرکٹ میں شروعاتی وقت سے ہی وکٹ کیپر تھے۔ کرمانی اسکول اور کالج کے طرف سے بھی کھیلا کرتے تھے، جس کی وجہ سے انھیں کرناٹک کرکٹ کلب سے کھیلنے کا موقع ملا اور بعد میں ریلوے کی طرف سے بھی انھیں کھیلنے کا موقع ملا۔ ان کی بہترین وکٹ کیپر اور بلے بازی کی وجہ سے انھیں ریاستی سطح پر ٹیم میں شامل کیا گیا اور پھر کئی گھریلوں ٹورنامنٹ میں کھیلنے کا موقع ملا اور بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔

سید کرمانی کی بہترین کارکردگی کو دیکھتے ہوئے انھیں 1971 میں انگلینڈ دورہ کے لئے ہندوستانی ٹیم میں شامل کیا گیا۔ اس وقت ہندوستانی ٹیم کے وکٹ کیپر تھے فرخ انجینئر۔ کرمانی کو فرخ انجینئر کے نائب وکٹ کیپر کے طور پر ٹیم میں شامل کیا گیا۔ کرمانی نے فرخ انجینئر کی رہبری میں وکٹ کیپر کے ہنر کو سیکھا۔ فرخ انجینئر ٹیسٹ میچ میں وکٹ کیپر رہتے تھے اور باقی کے تین دنوں کے میچوں میں کرمانی کو وکٹ کیپر کا موقع ملتا تھا۔

کرمانی نے ان تمام میچوں میں اپنی ذمہ داری کو بخوبی ادا کیا، جس کی وجہ سے فرخ انجینئر کے بعد ٹیم انڈیا کے وکٹ کیپر کی ذمہ داری سید کرمانی کو دی گئی۔ نیوزی لینڈ کے دورہ پر سید کرمانی کو بطور وکٹ کیپر شامل کیا گیا۔ بین الاقوامی سطح پر نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلتے ہوئے سید کرمانی نے دوسرے ہی ٹیسٹ میں وکٹ کے پیچھے چھ کیچ پکڑے اور پچھلے ریکارڈ کی برابری کی۔

کرمانی نے اپنی بہترین کارکردگی کے ساتھ مسلسل کئی ملکوں کا دورہ کیا جن میں آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز، پاکستان ممالک میں کھیلا، سید کرمانی نے اپنی بہترین کارکردگی کے ساتھ ہندوستان کو فتح دلانے میں ہمیشہ میدان میں ڈٹ کر کھڑے رہتے تھے۔

سید کرمانی زبردست شہرت کی بلندی پر گامزن تھے۔ جس کی وجہ سے اس وقت انگلینڈ کے مشہور کھلاڑی کیری پیکر نے بین الاقوامی سطح پر ورلڈ سیریز کرکٹ کے لئے بڑے بڑے کھلاڑیوں کو اپنی ٹیم میں شامل کیا۔ کیری پیکر نے ہندوستان سے سنیل گواسکر اور سید کرمانی کا انتخاب کیا۔ مگر دونوں کھلاڑی کیری پیکر کی ٹیم کے لئے راضی نہیں ہوئے۔ اس کے باوجود کرکٹ بورڈ اور سلیکٹرز کے درمیان افواہ گردش کر رہی تھی۔کہ کرمانی کیری پیکر کی ٹیم میں شامل ہوگئے۔اس وقت انگلینڈ کا دورہ سامنے تھا ساتھ ہی ورلڈ کپ کا میچ بھی۔

کرکٹ بورڈ نے سید کرمانی کو ٹیم انڈیا میں اس لئے شامل نہیں کیا کہ وہ کیری پیکر کے ساتھ تھے۔ ان کی جگہ بھرت ریڈی کو بطور وکٹ کیپر کا موقع دیا گیا۔ انگلینڈ دورہ اور کرکٹ ورلڈ کپ میں وکٹ کیپر بھرت ریڈی کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے ہندوستانی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد آسٹریلیا کا دورہ تھا 80 -1979 میں سید کرمانی کو کرکٹ بورڈ نے ٹیم انڈیا میں شامل کیا۔ ممبئی ٹیسٹ میں ہندوستانی اننگ لڑکھڑائی، نائٹ واچ مین کے طور پر سید کرمانی کو بھیجا گیا۔

سید کرمانی نے بہت سوجھ بوجھ کے ساتھ بلے بازی کرتے ہوئے 101 رنز کی بہترین اننگز کھیلی ساتھ ہی پورے سیریز میں وکٹ کے پیچھے 17 کیچ اور دو اسٹیمپنگ بھی کی۔ اور ماضی کے وکٹ کیپر نارین تھمانے کے ریکارڈ کو توڑا۔ اس کے بعد انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں انھوں نے ایک بھی رن بائے(Bye) کا نہیں دیا, جبکہ تین ٹیسٹ میچوں کا اسکور 1964 رنز تھا۔

1983 ورلڈ کپ کے میچوں میں سید کرمانی کو بہترین وکٹ کیپر کے خطاب سے نوازا گیا۔ انھوں نے ورلڈ کپ میچ میں ویسٹ انڈیز کے فواد بخش کا بہترین کیچ لیا تھا۔ ساتھ ہی زمباوے کے خلاف جب ٹیم انڈیا کے پانچ وکٹ بہت جلد گر گئے، اس وقت سید کرمانی نے ٹیم انڈیا کے کپتان کپل دیو کا ساتھ دیتے ہوئے 48 رنز بنائے اور کپل دیو کا ساتھ دیا اور ٹیم انڈیا کو ایک زبردست فتح دلائی۔

ورلڈ کپ میچ کے بعد 86-1984کے سیزن میں اپنی دوسری ٹیسٹ سنچری بنائی 102 رنز کی بہترین بلے بازی کی۔ مگر مدراس ٹیسٹ میں وکٹ کیپنگ کے دوران ایک کیچ کے لئے چھلانگ لگائی مگر وہ کیچ نہیں لے سکے اور ان کے پیر میں زبردست چوٹ لگی، جس کی وجہ سے کرمانی کو باقی کے میچوں کے لئے آرام دیا گیا اور کرمانی کی جگہ سدانند وشوناتھ کو ٹیم انڈیا کے لئے وکٹ کیپر شامل کیا گیا۔

1985 آسٹریلیا سیزن کے لئے پھر ایک مرتبہ سید کرمانی کو ٹیم انڈیا میں شامل کیا گیا۔ آسٹریلیا کے اس دورہ پر مشہور کھلاڑی ایلن بارڈر کا بہترین کیچ چھلانگ لگا کر لیتے ہوئے گرنے سے ان کے پیر میں پھر ایک مرتبہ چوٹ لگی جس کی وجہ سے اس وقت کے نوجوان وکٹ کیپر کرن مورے اور چندر کانت پنڈت کو موقع دیا گیا۔ اسی کے ساتھ سید کرمانی کا بین الاقوامی کرکٹ کا اختتام ہوا۔

سید کرمانی نے اپنے بین الاقوامی کرکٹ ریکارڈ میں 160 کیچ 38 اسٹیمپنگ کا ایک بہترین ریکارڈ بنایا جس میں دو سنچری اور بارہ نصف سنچری شامل ہے۔ سیدکرمانی نےگیند بازی کرتے ہوئے ایک وکٹ بھی لی ہے۔

سید کرمانی کی کرکٹ میں بہترین کارکردگی :
88 ٹیسٹ میچ میں 2759 رنز دو سنچری اور بارہ نصف سنچری شامل ہیں۔

ایک روزہ میچ میں سید کرمانی کی کارکردگی:
49 میچ 373 رنز 27 کیچ اور 9 اسٹیمپنگ کے ساتھ، بہترین اسکور 48 رنز مقابل

زمباوے ورلڈ کپ میچ کے دوران۔
فرسٹ کلاس میچ میں 13 سنچری اور 38 نصف سنچری شامل ہے۔وکٹ کیپنگ کے علاؤہ بالنگ میں 19 گیند اور ایک وکٹ حاصل کی۔1976-1986 تک ٹیم انڈیا کے لئے بہترین کارکردگی نبھائی۔ انھیں کئی بڑے ایوارڈز سے نوازا گیا۔ جن میں ہندوستان کا سب سے بڑا اعزاز "ارجن ایوارڈ”

سی کے نائڈو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ۔
19 دسمبر 1976 میں نیوزی لینڈ کے خلاف پہلا میچ کھیلا۔
 ۲؍جنوری 1986 آسٹریلیا کے خلاف آخری میچ کھیلا۔

کرکٹ کے علاوہ کرمانی کی فلموں سے بھی وابستگی رہی۔ اپنی بہترین اداکاری کے ذریعے بالی ووڈ میں شناخت بنائی۔ 1985 میں کبھی اجنبی تھے، 2010 میں ڈیڈلی-2 میں کام کیا۔ ٹیم انڈیا کے بہترین کھلاڑی کے ساتھ ایک بہترین وکٹ کیپر انھیں کرکٹ کے شیدائی ہمیشہ یاد رکھے گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button