بین الاقوامی خبریں

امریکی عدالت کا اسقاط حمل کے عام طریقے پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ

نیویارک ،19اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایک امریکی عدالت نے ریاست ٹیکساس میں اسقاط حمل کے سب سے محفوظ طریقہ کار پر پابندی کی راہ ہموار کر دی ہے جبکہ اسی عدالت نے اپنے سابقہ فیصلے میں اس قانون کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔امریکا کی پانچویں سرکٹ کورٹ آف اپیل نے 18 اگست بدھ کے روز اسقاط حمل سے متعلق ریاست #ٹیکساس کے اس قانون کو درست قرار دیا ہے جس میں دوسری سہ ماہی میں #اسقاط #حمل کے عام طریقہ کار کو ممنوع قرار دینے کی بات کہی گئی تھی۔

چودہ رکنی ججوں کی بینچ کی اکثریت نے ریاست ٹیکساس کے سن 2017 کے قانون کی حمایت کی اور اسی عدالت کے سابقہ فیصلے کو منسوخ کر دیا جس نے اس قانون کو غیر آئینی بتاتے ہوئے اس پر روک لگا دی تھی۔اس قانون کے نفاذ سے ڈاکٹر اسقاط حمل کے اس معیاری طریقہ کار کو استعمال نہیں کر سکیں گے جس میں انجکشن یا سکشن کے استعمال کے بغیر ہی جنین کو بڑی ترتیب سے باہر نکال لیا جاتا ہے۔

اسقاط حمل کے حامی کارکنان کا کہنا ہے کہ دوسری سہ ماہی میں خواتین کے لیے اسقاط حمل کا یہی سب سے محفوظ طریقہ کار ہے جس سے وہ محروم ہو جائیں گی۔اس قانون کے تحت، #طبی پیشہ ور افراد اب حاملہ خواتین کے جسم پر اضافی طریقہ کار اپنانے کے پابند ہوں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ #جنین #مادر رحم سے نکلنے سے پہلے ہی #مردہ ہو چکا ہو۔

جن ججوں نے ریاست ٹیکسس کے اس #قانون کی حمایت کی ان کا کہنا تھا کہ اسقاط حمل کے لیے جہاں یہ ڈاکٹروں کے لیے بھی ایک محفوظ طریقہ کار ہو گا، وہیں وہ نئے قانون پر بھی عمل کر سکیں گے۔لیکن بینچ میں شامل ایک جج نے اس کی یہ کہہ کر مخالفت کی کہ ضابطے کی آڑ میں،دوسری سہ ماہی کے دوران اسقاط حمل کا جو سب سے عام اور محفوظ ترین طریقہ ہے وہ ایک جرم بن جاتا ہے ۔

اس سے متعلق ایک تنظیم، سینٹر فار ریپروڈیوسنگ رائٹس کی سربراہ نینسی نارتھ رپ نے اپیل کورٹ کے فیصلے پر نکتہ چینی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا، ٹیکساس اسقاط حمل کو وجود سے باہر کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کی کوشش کرتا رہا ہے اور یہ تو پریشان کن بات ہے کہ ایک وفاقی عدالت ایک ایسے قانون کو برقرار رکھے جو عشروں سے #سپریم کورٹ کے اصولوں سے متصادم رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button