سوانح حیات فلمی و اسپوریٹس

تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤ گے-محمد رفیع: گلوکاری کی دنیا کا شہنشاہ

شکور پٹھان

محمد رفیع ایک ایسے گلوکار تھے جنہوں نے اپنی آواز کے ذریعے نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں لاکھوں دلوں کو تسکین بخشی۔ ان کی آواز میں جو قدرتی مٹھاس اور سوز تھا، وہ نہ صرف ان کے گانے کی خوبی تھی بلکہ ان کی شخصیت میں بھی ایک انفرادیت رکھی تھی۔ ان کے گانے ہر دور کے لوگوں کے دلوں میں بس گئے اور آج بھی ان کی آواز کی گونج سنائی دیتی ہے۔

زندگی کی ابتدائی منزلیں

محمد رفیع کا جنم 24 دسمبر 1924 کو ہندوستان کے شہر پٹھان کوٹ میں ہوا۔ انہوں نے بہت کم عمری میں ہی موسیقی کی دنیا میں قدم رکھا۔ ان کی آواز کی خوبصورتی اور ان کی گائیکی کی تکنیک نے انہیں اپنے وقت کا سب سے بڑا گلوکار بنا دیا۔ ان کی ابتدائی تربیت استاد گل محمد سے ہوئی، جنہوں نے انہیں کلاسیکی موسیقی کی بنیادی باتیں سکھائیں۔

رفیع صاحب کی آواز: ایک منفرد پہچان

محمد رفیع کی آواز کا جادو ان کے گانے کی نوعیت کے مطابق مختلف ہوتا تھا۔ چاہے وہ غزل ہو، بھجن، نعت ہو یا رومانوی گیت، رفیع صاحب کی آواز میں ہر گانے کی ضرورت کے مطابق جاذبیت تھی۔ ان کی آواز کی لچک اور بے مثال انداز نے انہیں ہر قسم کی موسیقی میں کامیاب بنایا۔ ان کے گانے نہ صرف خوبصورت ہوتے تھے بلکہ ان کی گائیکی میں ایک قدرتی سوز اور درد بھی ہوتا تھا۔

محمد رفیع کی مشہور گانے

محمد رفیع نے اپنے کیریئر کے دوران ہزاروں گانے گائے۔ ان کے گانے آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کی آواز میں جو سادگی اور مٹھاس تھی، وہ ان کے گانے کے الفاظ میں ایک نیا رنگ بھر دیتی تھی۔ ان کے مشہور گانوں میں "چودھویں کا چاند ہو، یا آفتاب ہو”، "خُدا کی قسم، تم لاجواب ہو”، "زندگی بھر نہیں بھولے گی یہ برسات کی رات”، "بہارو پھول برساؤ” اور "او دور کے مسافر، ہم کو بھی ساتھ لے لے” شامل ہیں۔

رفیع صاحب کی شخصیت

محمد رفیع کی شخصیت بھی اتنی ہی متاثر کن تھی جتنی ان کی گلوکاری۔ وہ ایک نرم دل، خاندانی اور مذہبی شخص تھے۔ ان کی زندگی میں ہمیشہ سادگی تھی اور وہ فن کے حوالے سے ہمیشہ کسی قسم کی شہرت یا معاوضے کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ موسیقی ان کا جذبہ ہے، اور اس کا مقصد صرف لوگوں کے دلوں کو سکون دینا ہے۔

رفیع صاحب کا کیریئر اور کامیابیاں

محمد رفیع نے اپنے کیریئر کے دوران ہندوستان کے تمام بڑے فلمی ستاروں کے ساتھ گایا اور ان کے گانے آج بھی ان کی کامیابی کا ثبوت ہیں۔ ان کی آواز کا جادو اس حد تک تھا کہ ان کے گانے ہر قسم کے کردار میں باندھ دیے جاتے تھے۔ محمد رفیع کا شمار ہندوستان کے سب سے بڑے گلوکاروں میں ہوتا ہے، اور ان کی آواز آج بھی سروں کا شہنشاہ سمجھی جاتی ہے۔

محمد رفیع کی وراثت

محمد رفیع کا انتقال 31 جولائی 1980 کو ہوا، لیکن ان کی آواز اور گانے آج بھی زندہ ہیں۔ ان کے گانے نسل در نسل سننے والوں کے دلوں میں بسے ہیں۔ رفیع صاحب کی آواز کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کا کمال گانے کا فن آج بھی لوگوں کے دلوں کو راحت دیتا ہے۔

محمد رفیع کی گائیکی: ایک عظیم فنکار کی روحانی و موسیقی کے سفر کی کہانی

میری آنکھیں بھیگتی جا رہی تھیں ۔دلہن کا باپ ایک طرف کھڑا پگڑی کے لٹکے ہوئے شملے سے آنکھوں کے گوشے پونچھ رہا تھا۔ ماں کو ایک پڑوسن گلے لگائے تسلی دے رہی تھی۔ لیکن مجھ چودہ پندرہ سال کے لونڈے کو کیا ہورہا تھا۔

نہ تو میں کوئی ایسا رقیق القلب تھا، نہ میری کسی بہن کی رخصتی ہوئی تھی۔ میں تو بلکہ شادی بیاہ کے وقت رونے سے گھبراتا تھا کہ بچپن میں کسی کی شادی میں سب کو روتے دیکھ کر میں نے بھی بسورنا شروع کیا تو ایک چنچل سی محترمہ نے کہا بھئی تو کیوں رو رہا ہے، کیا تجھے شادی کرنی تھی دلہن سے۔ اور میں کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی شرما دیا۔ اور اب کسی دلہن کو رخصت ہوتے دیکھتا تو وہاں سے ہٹ جاتا کہ کہیں میری چوری نہ پکڑی جائے۔

یا شاید میں دلہن کے چھ فٹے بھائی کو دیکھ رہا تھا۔ یہ بانکا سجیلا، چھیل چھبیلا نوجوان تو ان راجپوتوں کا مان تھا۔

محرم کے جلوس کے ساتھ چلتے، راستے میں پٹے بازی اور بنوٹ کے مقابلوں میں یہ ایک عجیب سی لہریا چال چلتے ہوئے اپنے مقابل کو زیر کرتا اور تماشائیو ں کی شاواس، شاواس وصول کرتا۔ لیکن لٹھ بازی کا یہ مرد میدان اس وقت اپنی چھوٹی سی بہن کو سینے سے لگائے بچوں کی طرح بلک رہا تھا۔

لیکن نہیں۔ یہ منظر میرے سامنے تھا لیکن کان میں ایک عجیب سی آواز گونج رہی تھی، جیسے کوئی سسکیوں کو سینے میں دبائے ہوئے، گھٹی گھٹی سی آواز میں رو رہا ہے۔ شہنائی کی آواز کے ساتھ بول سنائی دے رہے تھے

نازوں سے تجھے پالا میں نے، پھولوں کی طرح کلیوں کی طرحبچپن میں جھلایا ہے تجھ کو، با ہوں نے میری جھولوں کی طرح.…..میرے باغ کی اے نازک ڈالی تجھے ہر پل نئی بہار ملے...میکے کی کبھی نہ یاد آئے سسرال میں اتنا پیار ملے…

” ہورے چھورا تنے کی ہو گیا” ۔ میں چونک گیا۔۔۔

یہ اس گوالن کی آواز تھی جس کے ہاں میں دودھ لینے آیا تھا۔ میرے برتن کو دودھ سے بھر کر وہ اپنی پڑوسن کی ” چھوری” کی بدائی میں شامل ہونے چلی گئی تھی جہاں بیٹیاں سب کی سانجھ ہوتی ہیں۔یہ گوالوں کا محلہ تھا۔ یہ نسلا” راجپوت تھے اور نجانے مارواڑی یا میواتی کونسی زبان بولتے تھے۔ میں نے کبھی جاننے کی کوشش بھی نہ کی۔ کسی نے بتایا یہ رانگڑی بولتے ہیں۔

میں نے ہاتھ کی پشت سے اپنی گیلی ہوتی ناک پونچھی اور وہاں سے چل دیا۔ ” ریکارڈنگ” ابھی تک چل رہی تھی۔ اور وہیں میرا پڑوسی اور دوست رشید مل گیا۔ یہ مجھ سے دو ڈھائی سال بڑا تھا۔

"اُف کیا گانا ہے؟” ۔۔۔رشید کو گانے کا شوق تھا۔ بعد میں وہ باقاعدہ گانے اور ہارمونیم بھی بجانے لگا تھا۔

” کون گا رہا ہے یہ” میں نے پوچھا۔

” ایسے گانے صرف رفیع گا سکتا ہے” رشید نے گویا سرٹیفیکٹ جاری کردیا۔

اور یہ نام میرے لئے نیا نہیں تھا نہ ہی یہ آواز۔ بچپن میں اپنے چچا کو سنتا جب وہ صبح نہا دھوکر سر میں ہلکا سا تیل ڈال کر بالوں کو جھٹکتے ہوئے گاتے” سن سن ، ارے بیٹا سن، اس چمپی میں بڑے بڑے گن۔۔۔کاہے گھبرائے، کاہے شرمائیے۔”

یا پھر میرے شیرخوار بھائی کو ہوا میں اچھالتے ہوئے ایک عجیب سا گیت گاتے” الف سے ابن، ابی نبی ہرمن، ابن ابوا رے، بے سے ببن، ببی نبی برمن، ببن ببوا رے۔ الف زبرآ، الف زیر اے، الف پیش او”

اور ایک بار اتوار کو ان کے دوست آئے ہوئے تھے اور وہ باآواز بلند گا رہے تھے

” ایک جھلک جو پاتا ہے، راہی وہیں رک جاتا ہے

دیکھ کے تیرا روپ سلونا چاند بھی سر کو جھکاتا ہے

دیکھانا کرو تم آئینہ، کہیں خود کی نظر نہ لگے، چشم بد دور”

لیکن ان دنوں ان باتوں کا دماغ کہاں کہ کون گا رہا ہے یا کیا گا رہا ہے۔ لیکن اس آواز کو سنتے سنتے بڑے ہوئے اور ایک ہی بات سمجھ آتی تھی کہ ہر اچھا مردانہ گانا، محمد رفیع کا گانا ہوتا ہے۔

جون ایلیا نے میر تقی میر کے لئے کہا تھا کہ پر اچھا شعر ، میر کا شعر ہے۔ جون صاحب کا یہ ‘خیال ‘ تھا۔ رفیع صاحب کے بارے میں، میرا یہ ‘یقین ‘ ہے۔

اور میری کیا اوقات کہ رفیع صاحب کی گائیکی کے بارے میں کچھ کہوں کہ مجھے موسیقی اور سر سنگیت کی الف بے بھی نہیں پتہ۔ لیکن میں اس بات پر دنیا سے لڑ جاؤں گا کہ موسیقی کی الف سے یے تک جتنے بھی کمالات ہیں، جتنے بھی پیمانے ہیں ، جتنے بھی معیار ہیں ان پر اگر کوئی ایک فنکار پورا اترتا ہے تو وہ ہے محمد رفیع۔

مجھے ہر طرح کے گیت سننے کا شوق ہے اور مجھے ہر سریلا گلوکار پسند ہے۔ میری پسند کی فہرست میں، #مہدی حسن، #طلعت محمود، #مکیش، احمد رشدی، #مناڈے، کشور، سلیم رضا، منیر حسین، بشیر احمد، #ہمنت کمار، #پنکج ملک، ایم کلیم، #سہگل، حبیب ولی محمد، امانت علی، سے لیکر، عالمگیر، شہکی، جنید جمشید، علی ظفر، #سونونگم ، #راحت فتح علی وغیرہ وغیرہ سب شامل ہیں۔ اور میں ہر ایک کی صلاحیتوں کا قائل ہوں۔ لیکن ان سب گلوکاروں کی ایک حد ہے۔ کہیں نہ کہیں یہ وہ نہیں کرسکتے جو دوسرے کرسکتے ہیں۔

مثلاً مہدی حسن، کشور کمار کی طرح "یوڈلنگ” نہیں کرسکتے۔ یا طلعت محمود، احمد رشدی کی طرح کوکو، کورینا نہیں گا سکتے۔ یا احمد رشدی اپنی تمام تر مردانہ آواز، صاف ستھرے تلفظ اور سریلی پن کے باوجود سہگل کی طرح نہیں گا سکتے۔

لیکن رفیع صاحب ہر طرح کا گانا نہ صرف گا سکتے ہیں بلکہ سب سے اچھا گا سکتے ہیں۔ سر، تال، لے، تان، ، اتار ، چڑھاؤ، روانی، ٹھہراؤ، غرض سنگیت کا کوئی سا بھی مقام ہو، کوئی سا بھی موڑ ہو وہ ایسے گذر جاتے ہیں جیسے کوئی بات ہی نہیں ہے۔ وہ نہ صرف ٹھمری، دادرا، درباری، ترانہ، بلکہ، غزل، بھجن، نعت، قوالی، پاپ گیت اور کیا کچھ نہیں ہے جسے "پانی” کی طرح نہ گا سکیں۔

کوئی مانے یا نہ مانے، لیکن میرے نزدیک مردانہ آوازوں میں رفیع صاحب سے بڑا کوئی گلوکار نہیں۔ جو مٹھاس، سریلا پن، درد، سوز، گھمبیرتا، مدھرتا، چنچل پن، شوخی، معصومیت، سنجیدگی، توانائی محمد رفیع کی آواز میں ہے کوئی دوسرا گلوکار اس کا عشر عشیر بھی نہیں۔

دوسرے گلوکار سب اپنی جگہ عظیم ہیں، لیکن کسی نے دس بیس، کسی نے سو دوسو یا کسی نے ہزار دو ہزار مقبول گیت گائے ہونگے۔ لیکن رفیع صاحب کا ہر #گیت مقبول ، مقبول گیت تھا۔ کوئی کہتا ہے کہ انہوں نے پچیس ہزار گانے گاہے، کوئی اس سے بھی زیادہ بتاتا ہےتو کوئی کہتا ہے کہ نہیں صرف سات ہزار چار سو گیت گائے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ جو بھی گایا ، کمال گایا۔

دوسرے فنکار اپنے اپنے دور میں عظمت کی بلندیوں کو چھوکر ماضی کے دھندلکوں میں گم ہوتےچلے گئے۔ سہگل کو سب سے بڑا #گلوکار مانا جاتا تھا۔ استاد بڑے غلام علی خان اپنے وقتوں میں ایک مقام رکھتے تھے۔ لیکن آج کتنے ہے جو انہیں جانتے ہیں۔ اور کون ہیں جو اس انداز کی گلوکاری کو سراہتے ہوں۔ #رفیع صاحب لیکن ہر دور کے پسندیدہ گلوکار رہے۔ ہر فنکار کے فن کا عروج یہ ہے کہ اس کے لئے کہا جائے کہ یہ تو محمد رفیع جیسا گاتا ہے، یا اس کی آواز رفیع سے ملتی ہے۔

رفیع صاحب کے مقبول گیتوں کی فہرست بتانے بیٹھوں تو شاید کتابیں بھی کم پڑجائیں لیکن ہر ہر انداز اور ہر ہر کیفیت کے ایسے ایسے اور اتنے سارے گیت ہیں کہ اپنی سی ساری کوشش کرلوں تو شاید کچھ ہی گانوں کی بات کر سکوں گا۔

ذرا آنکھیں بند کرکے ان رومانی گیتوں کو تصور میں لائیں:

تیری پیاری پیاری صورت کو کسی کی نظر نہ لگے۔۔چشم بد دور

چودھویں کا چاند ہو، یا آفتاب ہو، جو بھی ہو تم خدا کی قسم ، لاجواب ہو

زندگی بھر نہیں بھولے گی ہی برسات کی رات

بہارو پھول برساؤ میرا محبوب آیا ہے،

احسان تیرا ہوگا مجھ پر دل چاہتا ہے وہ کہنے دو، مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے، مجھے پلکوں کی چھاؤں میں رہنے دو۔

یہ میرا پریم پتر پڑھ کر، کہیں ناراض نہ ہونا

سو سال پہلے، مجھے تم سے پیار تھا

یہ وادیاں ، یہ فضائیں بلا رہی ہیں تمہیں

آنے سے اس کے آئے بہار،

یہ ریشمی زلفیں، یہ شربتی آنکھیں

نہ جھٹکو زلف سے پانی

اور ذرا ان گیتوں میں درد کی کسک محسوس کریں:

او دور کے مسافر، ہم کو بھی ساتھ لے لے

آج پرانی راہوں سے کوئی مجھے آواز نہ دے

کھلونا جان کر تم تو میرا دل توڑ جاتے ہو

جب جب بہار آئی اور پھول مسکرائے۔۔۔مجھے تم یاد آئے

آجا تجھ کو پکارے میرا پیار

بابل کی دعائیں لیتی جا، جا تجھ کو سکھی سنسار ملے

اور ذرا ان نغموں کی چنچلتا کو یاد کریں:

نین لڑجئی ہیں تو منوا ما کھٹک ہوئے وے کری

بڑے میاں دیوانے ایسے نہ بنو

لال چھڑی میدان کھڑی

سویرے والی گاڑی سے چلے جائیں گے

ہم کالے ہیں تو کیا ہوا دل والے ہیں

آؤ گلبدن، پھولوں کی مہک کانٹوں کی چبھن

جان پہچان ہو، جینا آسان ہو

دل دیکے دیکھو

بار بار دیکھو، ہزار بار دیکھو

چاہے کوئی مجھے جنگلی کہے

ریشماں جوان ہوگئی

بدن پہ ستارے لپیٹے ہوئے

یا بچوں کے گیت:

ننھے منے بچے تیری مٹھی میں کیا ہے

چن چن کرتی آئی چڑیا

ہم بھی اگر بچے ہوتے

بار بار دن یہ آئے

ہم بھی اگر بچے ہوتے

غزل، بھجن، کسانوں کے گیت، فوجیوں کے گیت، فقیروں کے گیت ، شرابیوں، مسخروں غرض ہر کیفیت اور ہر کردار کے لئے رفیع کی آواز میں گیت موجود ہے۔ سنا ہے ساڑھے چار سو کے قریب کرداروں کے لئے رفیع صاحب کی آواز استعمال کی گئی۔

اور یہ کمال بھی رفیع صاحب ہی کا تھا کہ جس کے لئے گاتے وہ اسی کی آواز محسوس ہوتی۔ "سر جو تیرا چکرائے، یا دل ڈوبا جائے” فلم میں لگتا ہے کہ جانی واکر خود گا رہے ہیں۔ راجندر کمار جیسے معمولی صلاحیت کے فنکار کو رفیع صاحب کی ملکوتی آواز نے ہندوستان کا پہلا سپر اسٹار بنا دیا۔ اور شمی کپور کی اداکاری سے رفیع صاحب کے گانے نکال دیں تو کیا بچے گا۔ رفیع صاحب کے انتقال پر شمی کپور نے کہا کہ آج میری آواز خاموش ہوگئی ہے۔

موسیقی اور فلموں سے ہٹ کر رفیع صاحب کی ذاتی باتیں کرنے بیٹھوں تو رات بیت جائے۔ ایسا شریف النفس، فقیر منش، درویش صفت فنکار شاید ہی کوئی گذرا ہو۔ رفیع صاحب نے معاوضے کی کبھی پروا نہیں کی۔ نہ کبھی کوئی گانا پیسوں کے لئے چھوڑا۔ اکثر تو یہ ہوا کہ انہوں نے معاوضہ صرف ایک روپیہ وصول کیا۔ یہی وجہ تھی کی فلم سنگیت کے دو بہت بڑے نام لتا منگیشکر اور کشور کمار ان سے ناراض رہے۔

لتاجی نے چھ سال رفیع صاحب سے بات نہیں کی نہ ان کے ساتھ گایا۔ بعد میں ان دونوں کی صلح ہوگئی۔ کشور اور رفیع کی دوستی بھی بڑی گہری تھی۔ کشور کمار گھنٹوں رفیع صاحب کی میت کے قریب بیٹھے رہے۔ رفیع صاحب نے سب سے زیادہ دوگانے آشا بھوسلے کے ساتھ گائے اور مرد گلوکاروں میں سب سے زیادہ مناڈے کے ساتھ گایا۔

رفیع صاحب ہمیشہ نئے فنکاروں کی حوصلہ افزائی کرتے۔ اپنے ساتھی عظیم فنکاروں کے برعکس انہوں نے کبھی یہ شرط نہیں لگائی کہ فلاں کے ہی ساتھ گاؤں گا یا فلاں کے ساتھ نہیں گاؤں گا۔رفیع صاحب کے چہرے پر ہمیشہ ایک معصوم سی مسکراہٹ رہتی۔ ان کی شاید ہی کوئی تصویر ملے جو مسکراہٹ کے بغیر ہو۔

سنا ہے ایک بار ایچ ایم وی والوں نے ان کے غمگین نغموں کی البم جاری کی جس کے لئے انہیں رفیع صاحب کی کوئی ایسی تصویر درکار تھی جس میں وہ مسکرا نہ رہے ہوں۔ اور سننے میں آیا کہ انہیں ناکامی ہوئی اور دکھ بھرے نغموں کی البم پر بھی ان کی مسکراتی تصویر ہی لگانے پڑی۔

رفیع صاحب ایک گوشہ نشین، خاندانی اور مذہبی انسان تھے۔ ان کے بیوی بچے فلمی تقریبات سے دور رہتے۔ رمضان میں ان کے گھر کے لان میں تراویح کا اہتمام ہوتا جہاں دلیپ صاحب، مقری ، محمود، جانی واکر، اجیت اور دوسرے مسلمان فنکار بھی شامل ہوتے۔

اور جب ملکوتی آواز کا مالک، سروں کا شہنشاہ اور لاکھوں نہیں کروڑوں دلوں کا محبوب جب اپنے آخری سفر پر جارہا تھا تو آسمان نے اپنے دروازے ان پر کھول رکھے تھے۔ رم جھم برستے ساون میں ان کی میت میں شامل لوگوں کی آنکھوں میں اس برسات سے کہیں زیادہ آنسو تھے۔اور رفیع صاحب کو بھلانا کوئی ایسا آسان بھی نہیں۔ وہ خود کیا خوب کہہ گئے

تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤ گے

جب کبھی بھی سنو گے گیت میرے

سنگ سنگ تم بھی گنگناؤ گے۔

رفیع صاحب  اللہ آپ کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے کہ آپ نے لاکھوں دلوں کو سکون بخشا اور خوشیاں دیں۔


Amol Palekar – ایک سنجیدہ اداکار، ہدایت کار اور فلم ساز

متعلقہ خبریں

Back to top button