
کوئٹہ ، 21اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحلی علاقے #گوادر میں #ایکسپریس وے کے قریب بلوچ وارڈ میں جمعہ کی شام 7 بجے ایک زور دار #دھماکہ ہوا۔گوادر پولیس حکام کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب تعمیراتی کام کرنے والے چینی کمپنی کے انجینئرز کی گاڑی ایکسپریس وے سے گزر رہی تھی۔دھماکہ کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جب کہ پولیس، ایف سی اور ریسکیو کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں جہاں سے زخمیوں کو سول ہسپتال منتقل کیا گیا۔
میڈیکل سپرنیڈنٹ سول اسپتال گوادر ڈاکٹر لطیف نے بتایا کہ واقعے کے بعد دو بچوں کی #نعشیں اسپتال لائی گئی ہیں جو دھماکے کے وقت ایکسپریس وے کے قریب فٹ بال کھیل رہے تھے۔ڈاکٹر لطیف کے بقول #دھماکے میں تین افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 2 کی حالت تشویش ناک ہے۔وزیر داخلہ بلوچستان ضیااللہ لانگو کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چینی کمپنی کی گاڑی ایکسپریس وے سے گزر رہی تھی کہ ایک کم عمر لڑکے نے گاڑی کی جانب بڑھنے کی کوشش کی، تاہم سیکورٹی اہل کاروں نے اسے آگے جانے سے روکا۔
ضیااللہ لانگو کے بقول دھماکے کے نتیجے میں قریب ہی کھیلنے والے دو بچے ہلاک ہو گئے۔ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ گلگت بلتستان میں دہشت گرد دوبارہ منظم ہو رہے ہیں۔انہوں نے واقعے میں ایک #چینی #باشندے کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی ہے، جس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ڈپٹی کمشنر گوادر عبدالکبیر زکون نے مقامی صحافی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا جس میں چینی قافلے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تحقیقات کر رہے ہیں۔اس موقع پر ڈی ایس ایس پی گوادر ڈاکٹر فرہان نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر چینی باشندوں کی ہلاکت کی گردش کرنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ایس ایس پی کے بقول چائییز عملے کی فول پروف سکیورٹی تھی۔ شہر میں سخت سیکیورٹی ہے۔ ہماری اسنیپ چیکنگ جاری ہے۔یاد رہے کہ سال 2018 میں بھی بلوچستان کے علاقے دالبندین میں چینی باشندوں کو لے جانے والی ایک بس پر ایک خود کش حملہ ہوا تھا جس میں دو چینی انجینئرز سمیت پانچ افراد زخمی ہو گئے تھے۔
سال 2019 میں بھی #گوادر کے پی سی ہوٹل پر بھی اس وقت حملہ کیا گیا تھا جب چینی باشندے بھی ہوٹل میں موجود تھے۔اس سے قبل ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے بھی واقعے کے حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹیوئٹر پر ایک بیان جاری کیا۔لیاقت شاہوانی نے واقعے کو خود کش حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی مزمت کی ہے اور کہا ہے کہ سی ٹی ڈی کے اہلکار واقعے کے بعد موقع پر پہنچ گئے ہیں اور اس تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ چینی انجینئرز بلوچستان ساحلی علاقے گوادر میں پاک چین اقتصادی راہداری سی پیک کے سلسلے میں ترقیاتی کاموں میں مصروف ہیں۔
ماضی میں سی پیک پر کام کرنے والے چینی باشندوں پر حملوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں، تاہم، اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی۔پچھلے مہینے پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختون خوا میں جاری ایک ترقیاتی منصوبے کے کارکنوں کو لے جانے والی ایک بس سڑک پر خودکش دھماکے کے بعد کھائی میں گر گئی تھی جس میں 9 چینی #انجینئرز سمیت 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
گوادر خودکش حملے کی جامع تحقیقات کی جائیں: چینی سفارتخانہ
پاکستان میں چین کے سفارتخانے کی جانب سے جمعے کی شام گوادر میں چینی شہریوں کے قافلے پر خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے کہا گیا ہے۔ سنیچر کو سفارت خانے کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے بیان میں دونوں ممالک کے زخمیوں سے ہمدردی کا اظہار اور ہلاک ہونے والے دو پاکستانی شہریوں کے خاندانوں سے تعزیت کی گئی ہے۔ چینی سفارت خانے کی جانب سے پاکستان میں ہنگامی پلان کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ زخمیوں کا مکمل علاج کیا جائے، واقعے کی جامع تحقیقات کی جائیں اور اس میں جو عناصر ملوث ہیں ان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کے تمام متعلقہ ڈیپارٹمنٹس کو سکیورٹی کے حوالے سے اقدامات کو مزید محفوظ اور جامع بنانا چاہیے اور ایسا ماحول بنانا چاہیے کہ ایسے واقعات نہ ہو سکیں۔ چینی سفارت خانے کی ویب سائٹ پر دیے جانے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پچھلے کچھ عرصے میں پاکستان میں سکیورٹی کی صورت حال خراب ہوئی ہے۔
بیان کے مطابق ’پاکستان میں رہنے والے چینی شہریوں کو ایک بار پھر یاد دلایا جاتا ہے کہ وہ ہوشیار رہیں، اپنے تحفظ کے اقدامات کو مضبوط بنائیں، بلاضرورت باہر نکلنے سے گریز کریں



