
چندی گڑھ ، ۲۲؍اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پنجاب -ہریانہ ہائی کورٹ نے لیو ان ریلیشن میں رہنے والے جوڑے کی طرف سے تحفظ کی درخواست مسترد کرنے سے قبل ایک شادی شدہ خاتون کے #لیواِن #ریلیشن شب میں رہنے کو ’ناپاک‘ رشتہ قرار دیا ہے ۔ جسٹس سنت پرکاش نے #کیس کی #سماعت کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار جوڑے کا معاملہ یہ ہے کہ خاتون کے والدین نے جولائی 2018 میں اس کی مرضی اور خواہش کے خلاف اس کی شادی کی تھی، اس شادی سے ایک بچہ بھی پیدا ہوا،جبکہ #عورت #شادی سے ناخوش تھی۔
یہ بھی الزام ہے کہ شوہر اسے ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بناتا تھا، اس لیے اس نے اپنی ازدواجی زندگی اور شوہر کا چھوڑ کر شریک درخواست گزار کے ساتھ لیو ان ریلیشن شب میں رہ رہی تھی۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ اس کے شوہر اور کچھ دیگر رشتہ دار اس کے لیو ان ریلیشن شب سے ناخوش ہوکر اسے قتل کی دھمکیاں دے رہے تھے۔جسٹس سنت پرکاش نے کہا کہ درخواست گزاروں کو خدشہ تھا مدعا علیہان انہیں نقصان پہنچائیں گے۔
اس صورتحال میں 13 اگست کو انہوں نے پولیس افسران کو ایک شکایتی خط لکھا،لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ، جس کی وجہ سے وہ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے پر مجبور ہوا۔ رپورٹ کے مطابق درخواست گزاروں کے وکیل کی دلیل سننے کے بعد جسٹس سنت پرکاش نے کہا کہ عدالت کا موقف ہے کہ موجودہ درخواست ایک سے زائد وجوہات کی بنا پر مسترد کئے جانے کے لائق ہے ۔
یہ واضح ہے کہ خاتون پہلے ہی شادی شدہ ہے ، اور اس شادی سے ایک بچہ بھی پیدا ہواہے۔ شادی کے کچھ عرصے بعد وہ معاون درخواست گزار سے عشق کر کے لیو ان ریلیشن شپ میں زندگی گزر بسر کر رہی تھی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کا وکیل عدالت کواپنے دلائل سے قائل نہ کر سکا کہ اس نے اپنے شوہر سے طلاق لے لی ہے۔



