
نئی دہلی، 22 اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ہندوستانی #فوج میں #خواتین افسران کے مستقل کمیشن کے لیے لڑائی ابھی جاری ہے۔ #سپریم کورٹ کے حکم کے بعد فوج نے 615 #خواتین #افسران کے لیے مستقل کمیشن کا خصوصی بورڈ قائم کیا تھا، جن میں سے کئی کو مستقل کمیشن دیا گیا ہے لیکن جن خواتین افسران کو مستقل #کمیشن نہیں ملا ،ان کا الزام ہے کہ فوج نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر پوری طرح عمل نہیں کیا۔
فوج کی 28 خواتین افسران نے اب انصاف کے لیے آرمڈ #فورسز ٹریبونل سے رجوع کیا ہے۔ ان خواتین افسران کو فوج نے حکم دیا ہے کہ وہ 12 ستمبر تک فوج چھوڑ دیں، کل یعنی 23 اگست کو اس کی آرمڈ فورسز ٹریبونل میں سماعت ہے۔ایک خاتون افسر نے کہا کہ فوج نے ہماری خدمت کے پہلے پانچ سالوں کو ہی مستقل کمیشن دینے پر غور کیا اور اس بنیاد پر مستقل کمیشن دینے سے انکار کر دیا، جبکہ مجموعی پروفائل کے مطابق غور کیا جانا چاہیے تھا، ہم اسی اپیل کے ساتھ آرمڈ فورسز ٹریبونل کے پاس گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے ہمیں پہلے پانچ سال سروس کے بعد توسیع ملی اور پھر 10 سال سروس کے بعد، اگر ہم خدمت کے لیے نااہل ہوتے تو ہم یہاں تک نہ پہنچ پاتے۔ جنہوں نے مسلح افواج کے ٹربیونل میں اپیل کی ہے ان 28 خواتین افسران میں سے زیادہ تر 20 سال سے زیادہ خدمات انجام دے رہی ہیں۔



