دبئی ، ۲۴؍اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)تیونس کے صدر نے پارلیمان کو اس بار غیر معینہ مدت کے لیے #معطل کر دیا ہے۔ تاہم ان کے ان کے اس فیصلے سے کئی حلقوں میں ملک میں #جمہوریت کے مستقبل کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ #تیونس کے صدر قیس سعید کے دفتر نے پیر کے روز جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ صدر نے آئندہ کسی بھی نوٹس تک پارلیمان کی معطلی میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی صدر نے ارکان پارلیمان کو جو استثنیٰ حاصل ہوتا ہے اس کی معطلی میں بھی توسیع کا اعلان کیا ہے۔
صدر #قیس سعید نے گزشتہ ماہ وزیر اعظم ہشام #مشیشی کو برطرف کر دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ملک کے انتظامی امور خود ہی سنبھالیں گے۔ ملک میں پر تشدد مظاہروں کے بعد انہوں نے اپنے فیصلے کا یہ کہتے ہوئے دفاع کیا تھا کہ ملک کو تباہی سے بچانے کے لیے بچانے کے لیے یہ ضروری ہے۔اس وقت صدر سعید نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ جلدی ہی ایک نئے وزیر اعظم کو مقرر کریں گے تاہم انہوں نے ابھی تک یہ وعدہ پورا نہیں کیا ہے۔
مغربی ممالک نے ان سے پارلیمان کو بھی بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم انہوں نے اب تک پارلیمان کو دوبارہ بحال کرنے کا کوئی خاکہ بھی پیش نہیں کیا ہے۔صدارتی بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر قیس سعید آنے والے دنوں میں قوم سے خطاب کرنے والے ہیں۔یہ واضح نہیں کہ صدر کو اپنے ان اہم اقدامات کی سیاسی سطح پر کتنی حمایت حاصل ہے۔ تاہم یہ بات بھی درست ہے کہ 2011 کے بہارعرب کے بعد پارلیمان میں النّہضہ نامی جو سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری تھی اس سے بھی لوگ کافی ناراض ہیں اور شاید اسی رسہ کشی کی وجہ سے یہ سیاسی بحران کھڑا ہوا۔
#النّہضہ پارٹی کے رہنما راشد غنوشی نے صدر کے ان اقدامات کو بغاوت قرار د یا تھا اور عوام سے اس کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کو کہا تھا۔ تیونس میں جس طرح کورونا کی وبا سے نمٹنے کی کوششیں کی گئیں اور اس کے لیے بندشیں عائد کی گئیں اس سے عوام خوش نہیں ہے۔ لوگوں میں بڑھتی بے روز گاری، معاشی مندی اور خراب معیار زندگی کی وجہ سے کافی بے چینی پائی جاتی ہے۔تیونس میں سن 2011 کے #انقلاب کے بعد سے ہی سیاسی عدم استحکام جاری ہے



