نیویارک ، ۲۴؍اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اسرائیلی وزارتِ دفاع نے پیر کے روز بتایا ہے کہ امریکی فوج نے اس موسم گرما کے اوائل میں امریکی سرزمین میں اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام ’آئرن ڈوم‘ "Iron Dome” کا پہلا تجربہ کیا ہے۔وزارت دفاع نے بتایا کہ یہ ٹیسٹ گذشتہ جون میں امریکہ کی جنوب مغربی ریاست نیو میکسیکو میں وائٹ سینڈس ٹیسٹ یارڈ میں کیا گیا۔
اسرائیلی اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ #آئرن #ڈوم کی بیٹریوں کی فراہمی کے 8 ماہ بعد اسرائیلی کمپنیوں کی مدد سے #امریکی فوج نے آئرن ڈوم کا تجربہ کیا۔اخباری رپورٹ کے مطابق اسرائیلی کمپنیاں #رافیل ملٹری #انڈسٹریز ، ایلٹا سسٹمز ، اور ایم پریسٹ آئرن ڈوم تیارکرتی ہیں ،اور انہوں نے مشترکہ طور پر اس نظام کے تجربے میں امریکی فوج کی مدد کی تھی۔
وزارت دفاع کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب امریکا میں آئرن ڈوم کے ذریعے ایک ڈرون سمیت دیگر اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ #اخبار نے نشاندہی کی کہ آئرن ڈوم ابتدائی طور پر میزائلوں کو روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اسے کئی بار اپ گریڈ کیا گیا تاکہ مارٹر گولوں، بغیر پائلٹ کے ڈرون طیاروں اورکروز میزائلوں کو مار گرایا جائے۔ سنہ 2019 کے معاہدے کے تحت اسرائیل نے آئرن ڈوم کی دو بیٹریاں امریکا کو فروخت کیں، جن میں سے پہلی 2020 کے آخر میں اور دوسری جنوری 2021 میں فراہم کی گئی تھی۔
#اسرائیلی اخبار لکھتا ہے کہ تل ابیب آئرن ڈوم سسٹم کو بیرون ملک فروخت کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے،مگر اسرائیل اس کی تیاری میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ #ٹیکنالوجی لیک ہونے کی صورت میں دشمن ان معلومات کو نظام کا توڑ نکالنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔



