دہلی فسادات: یو اے پی اے کے تحت گرفتار ملزم کاسوال انوراگ ٹھاکر اور کپل مشرا کے خلاف ایف آئی آردرج کیوں نہیں کی گئی؟
نئی دہلی، 24 اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)گزشتہ سال شمال مشرقی دہلی میں فسادات کے سلسلے میں غیر قانونی سرگرمی (روک تھام) ایکٹ کے تحت گرفتار جامعہ ملیہ اسلامیہ ایلومنائی ایسوسی ایشن کے سربراہ شفاء الرحمان نے منگل کو عدالت سے پوچھا کہ کیا فسادات کو اکسانے کے الزام میں مرکزی وزیر #انوراگ ٹھاکر، بی جے پی لیڈر کپل مشرا اور دیگر کے خلاف ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئی؟۔
ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران شفاء کے وکیل ابھیشیک سنگھ نے 30 جنوری 2020 کو ایڈیشنل سیشن جج امیتابھ راوت کی طرف سے دائر کی گئی ایک شکایت دکھائی جس میں ٹھاکر، مشرا، ایک اور بی جے پی لیڈر پرویش ورما اورجامعہ میں فائرنگ کرنے والے رام بھکت پر #فسادات کیلئے اکسانے پر گوپال کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ ہے۔سنگھ نے کہا کہ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ کیا استغاثہ نے انہیں گواہ یا ملزم بنانے یا نوٹس جاری کرنے کی زحمت کی؟
کیونکہ انہوں نے جنہیں گولی مارنے کی بات کہی سب جانتے ہیں کہ وہ کون ہیں۔ ان کے پاس کم از کم کچھ ثبوت ہونا ضروری ہے۔ ان کے خلاف ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئی؟ یہی وہ شکایت ہے جسے میں آگے بڑھارہاتھا۔جنوری 2020 کوایک انتخابی ریلی میں حصہ لیتے ہوئے ٹھاکر نے’دیش کے غداروں کو‘ کہا تھا اور ہجوم نے جواب دیا ’گولیاں مارو سالوں کو‘۔ایڈوکیٹ سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ ایلومنائی یونین کا رکن یا صدر یا مظاہرین ہونا کوئی جرم نہیں ہے کیونکہ لوگ اپنی رائے کا اظہار کرنے کے حقدار ہیں اور پرامن طریقے سے کسی بھی چیز کی مخالفت کر سکتے ہیں۔
وکیل نے عدالت کو بتایاکہ مجھے کیوں فریم کیا گیا ہے؟ میں یہ سمجھنے میں ناکام ہوں، مظاہرہ ایک بنیادی حق ہے۔ اگر معاشرے کا ایک طبقہ کسی قانون سے پریشان ہو اور اس کی مخالفت کرے تو یہ جرم نہیں ہے، وہ مخالفت کر سکتے ہیں۔ان کے علاوہ جے این یو کے سابق طالب علم عمر خالد، جے این یو کی طالبات #نتاشا نروال اور دیوانگنا کلیتا، جامعہ رابطہ کمیٹی کی رکن #صفورا زرگر، سابق اے اے پی #کونسلر طاہر حسین اور کئی دیگر افراد پر بھی سخت قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔



