نئی دہلی،25؍اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)راکیش استھانہ کی دہلی پولیس کمشنر کے طور پر تقرری کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کا فیصلہ دو ہفتوں میں سنائیں۔ سپریم کورٹ نے این جی او سی پی آئی ایل کو ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی آزادی دی۔ پرشانت بھوشن نے اس پر کہا کہ یہ #سپریم کورٹ کے پرکاش #سنگھ فیصلے کے خلاف ہے۔ اب سپریم کورٹ دو ہفتوں کے بعد اس معاملے کی سماعت کرے گا۔
ابتدائی طور پر چیف جسٹس معاملے کو سننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ساتھ ہی جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے پرشانت #بھوشن سے یہ بھی کہا کہ آپ ٹھیک کہہ سکتے ہیں۔ لیکن ہائی کورٹ کو معاملہ سننے دیں، ہمیں ہائی کورٹ کے فیصلے کا فائدہ ملے گا۔ سپریم کورٹ میں سی جے آئی این وی رمنا، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس سوریہ کانت کی بنچ میں سماعت ہوئی۔حال ہی میں گجرات کیڈر کے آئی پی ایس افسر #راکیش #استھانہ کو دہلی پولیس #کمشنر بنانے کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا۔ پرشانت بھوشن کی این جی او سنٹر فار پبلک انٹرسٹ لیٹی گیشن (سی پی آئی ایل) نے آئی پی ایس افسر راکیش استھانہ کی دہلی پولیس کمشنر کے طور پر تقرری اور ان کی سروس میں ایک سال کی توسیع کو چیلنج کیا ہے۔
این جی او نے سپریم کورٹ پر بھی زور دیا ہے کہ وہ مرکزی حکومت کو 27 جولائی کے اس حکم کو منسوخ کرنے کی ہدایت کرے جس نے راکیش استھانہ کی #گجرات کیڈر سے اے جی ایم یو ٹی کیڈر میں انٹر کیڈر ڈیپوٹیشن کی اجازت دی تھی۔ واضح رہے کہ گجرات کیڈر کے 1984 بیچ کے آئی پی ایس افسر استھانہ کو 27 جولائی 2021 کو دہلی پولیس کا کمشنر مقرر کیا گیا۔ راکیش استھانہ 31 جولائی 2021 کو ریٹائر ہونے والے تھے، لیکن ریٹائرمنٹ سے چار دن پہلے انہیں دہلی پولیس کمشنر بنا دیا گیا۔
راکیش استھانہ کا دہلی پولیس چیف کی حیثیت سے ایک سال کا عرصہ ہوگا۔ اپنی درخواست میں پرشانت بھوشن نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ راکیش استھانہ کی سروس کی مدت میں توسیع کے مرکز کے حکم کو کالعدم قرار دے۔ پرشانت بھوشن نے اپنی درخواست میں راکیش استھانہ کی مدت میں توسیع کے ساتھ ساتھ دہلی پولیس چیف کے طور پر تقرری کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔



