بین الاقوامی خبریںسرورق

کابل ہوائی اڈہ کے باہر دو دھماکے، 20 کی موت، پچاس افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع

دبئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)افغانستان کے دارالحکومت کابل کے حامد کرزئی ائیرپورٹ کے قریب زور دار دھماکا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں 20 افراد جاں بحق جبکہ امریکی فوجیوں سمیت متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔افغان میڈیا کے مطابق دھماکا حامد کرزئی ائیرپورٹ کے مشرقی گیٹ پر ہوا ہے، جہاں گزشتہ 12 روز سے ہزاروں افراد ملک سے نکلنے کے لیے جمع ہیں، خودکش دھماکے کے بعد فائرنگ کی آواز بھی سنائی دی۔

عرب میڈیا کے مطابق خودکش دھماکے کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، مرنے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، زخمیوں میں امریکی فوجی اہلکار اور طالبان محافظ بھی شامل ہیں، تمام زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایئرپورٹ کے باہر دھماکہ ہوا ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پنٹاگون کے ایک ترجمان نے کابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکے کی تصدیق کی اور کہا کہ دھماکے میں ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔برطانوی خبر رساں ادارہ روئٹرز نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکہ بظاہر خود کش لگ رہا ہے۔امریکی ٹی وی چینل سی این این نے دو امریکی اہلکاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ دھماکے میں افغان شہری زخمی ہوئے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک کسی امریکی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔قبل ازیں افغان فورسز نے ایئرپورٹ کے باہر ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی تھی۔اس وقت خبریں آئی تھی کہ افغان فورسز نے ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے والے اٹلی کے جہاز پر فائرنگ کی۔ تاہم اٹلی کی حکومت نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔اس سے قبل امریکہ اور اتحادیوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ  کابل کے ہوائی اڈے سے دور رہیں کیونکہ داعش کے دہشت گردانہ حملے کا خطرہ ہے۔

اے ایف پی کے مطابق بدھ کی رات گئے لندن، کینبرا اور واشنگٹن کی جانب سے تقریباً ایک ہی طرح کا انتباہ جاری کیا گیا تھا جس میں علاقے میں جمع ہونے والے افراد پر زور دیا گیا کہ وہ نکل جائیں اور کسی محفوظ مقام پر چلے جائیں۔کئی دنوں سے ہزاروں خوفزدہ افغان اور غیر ملکی طالبان حکومت سے فرار کی امید میں کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو گھیرے ہوئے ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے انتباہی پیغام میں ’نامعلوم خطرات‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ابی گیٹ، مشرقی گیٹ یا شمالی گیٹ پر موجود افراد کو فوری طور پر نکل جانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button