
پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے لیے تعلیمی قابلیت میں اضافے ، ڈگری سطح پر تدریس اور تحقیقی سرگرمی کا موقع
ہمارے ملک میں بتدریج اعلیٰ تعلیم میں انرولمنٹ کی شرح بڑھتی جارہی ہے اور اسی کے مطابق اس شعبے میں ملازمت کے مواقع بھی بڑھ رہے ہیں۔قومی سطح پر ڈگری کالیجز میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر اور جونیر ریسرچ فیلو شپ امیدواروں کے لیے ریاستی سطح پر سیٹ (State Eligibility Test) اور قومی سطح پر (National Eligibility Test) منعقد کیا جاتا ہے جنھیں ہم عرفِ عام میں نیٹ/سیٹ کہتے ہیں۔کورونا وباء کی بناء پر گذشتہ امتحان دسمبر ۲۰۲۰ء کا انعقاد نہیں ہو پایا تھا۔
دسمبر ۲۰۲۰ء اور جون ۲۰۲۱ء کے امتحانات امسال ۶ ؍اکتوبر ۲۰۲۱ء سے آن لائن ہوں گے۔
اب نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے دسمبر ۲۰۲۰ء اور جون ۲۰۲۱ء کے امتحانی سائیکل کو ایک ساتھ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جن امیدواروں نے دسمبر ۲۰۲۰ء کے لیے فارم بھرا تھا انھیں دوبارہ فارم بھرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ اگر ان کی تیاری نہیں ہوئی ہو تو یہ ان کے لیے اچھا موقع ہے۔ آئیے ۶؍اکتوبر ۲۰۲۱ء سے منعقد ہونے والے اس قومی سطح کے اہم امتحان کا جائزہ لیں۔
منعقد کرنے والا ادارہ : قومی سطح پر منعقد ہونے والے نیٹ(NET) امتحانات کا انعقاد یو جی سی (یونیورسٹی گرانٹس کمیشن) کے لیے حکومت کے تشکیل کردہ خود مختار ادارے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے ذریعے منعقدکیا جاتا ہے۔
کن امیدواروں کے لیے ہے ؟
قومی سطح پر کسی بھی ڈگری کالج میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر ملازمت کے متمنی یا یو جی سی کی اسکیموں کے لیے جونیر ریسرچ فیلوشپ(JRF) حاصل کرنے یا پھر دونوں کے خواہشمند امیدواراس امتحان میں شریک ہوسکتے ہیں۔
JRF کے لیے امسال عمر کی قید میں مزید رعایت : صرف امسال کے لیے یو جی سی نے جونیر ریسرچ فیلو (JRF) امیدواروںکے لیے عمر کی حد میں مزید رعایت دی ہے۔ یکم اکتوبر ۲۰۲۱ء تک ۳۱ ؍برس تک کے امیدوار اس میں شریک ہوسکتے ہیں اور یو جی سی کی تحقیقی اسکیموں کا فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ دیگرکئی امیدواروں کے لیے عمر کی حد میں رعایت دی گئی ہے جو ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ جبکہ صرف نیٹ کے امتحان میں شرکت کے لیے عمر کی کوئی حد نہیں ہے۔
اہلیت ، رعایت اور مضامین : یہ امتحان ۸۴ (چوراسی) مضامین کے لیے منعقد ہوگا جس کی تفصیل ویب سائٹ www.nta.ac.in پر دستیاب ہے۔
مذکورہ مضامین میں پوسٹ گریجویٹ کامیاب طلبہ جنھوں نے ۵۵ فیصد یا اس سے زائد مارکس حاصل کیے ہیں یا پوسٹ گریجویشن کے آخری سال میں ہوں وہ درخواست دے سکتے ہیں ۔امیدوار صرف انہی مضامین کا انتخاب کرسکتے ہیں جس میں انھوں نے پوسٹ گریجویشن کیا ہے۔ اوبی سی ، ایس سی ، ایس ٹی ، معذور اور ٹرانس جینڈر امیدواروں کو ۵ فیصد مارکس کی رعایت ہوگی یعنی ایسے امیدوار وں کا پوسٹ گریجویشن میں پچاس فیصد مارکس ہوتو وہ بھی درخواست دے سکتے ہیں۔
پی ایچ ڈی ہولڈرس کو رعایت : ایسے امیدوار جن کا پی ایچ ڈی ۱۹؍ستمبر ۱۹۹۱ء سے قبل مکمل ہوچکا ہے اگر وہ اس امتحان میں شریک ہونا چاہتے ہیں تو انھیں ۵فیصد کی رعایت ہوگی۔
امتحان کی نوعیت، طریقہ کار ، سینٹرس اور پرچوں کی تفصیل : یہ امتحان کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ (CBT)ہوگا۔ یعنی امتحان مکمل آن لائن ہوگا جس کے لیے ملک کے مختلف شہروں میں امتحان کے سینٹر س ہوں گے ، شہروں کی تفصیل ویب سائٹ پر موجود ہے۔ دو پرچے ہوں گے جو ملٹی پل چوائس کے سوالات پر مبنی ہوں گے اور دونوں پرچوں ایک ساتھ تین گھنٹے کے دورانیے میں مکمل کرنے ہوں گے۔ پہلا پرچہ ۵۰(پچاس) سوالات پر مشتمل ۱۰۰(سو) مارکس کا ہوگا۔
یہ ٹیچنگ اور ریسرچ اپٹی ٹیوٹ کی جانچ کے لیے ہوگا۔ جبکہ دوسرا پرچہ ۱۰۰(سو) سوالات پر مشتمل ۲۰۰(دو سو) مارکس کا ہوگا۔ دوسرا پرچہ امیدوار کے ذریعے منتخب کیے گئے مضمون کا ہوگا جس کے تمام سوالات لازمی ہوں گے۔ اس طرح تین گھنٹے میں ایک سو پچاس سوالات تین سو مارکس کے لیے حل کرنے ہوں گے۔
امتحان کا وقت : دو نوں امتحانی سائیکل (دسمبر ۲۰۲۰ء اور جون ۲۰۲۱ء ) کے امتحانات ایک ساتھ منعقد ہوں گے۔ جن طلبہ نے دسمبر ۲۰۲۰ء امتحانات کے لیے فارم بھرے ہیں انھیں دوبارہ فارم بھرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ امسال یہ امتحانات ۶؍اکتوبر ۲۰۲۱ء تا ۱۱؍اکتوبر ۲۰۲۱ء دو شفٹ ، صبح ۹ تا ۱۲ بجے اور دوپہر ۳ تا ۶ بجے کے درمیان منعقد ہوں گے۔ امیدواروں کو اپنے دونوں پرچے ایک ہی شفٹ میں ایک ساتھ دینے ہوں گے۔
ٹیسٹ کی مشق (Mock Test) : یہ امتحان آنلا ئن منعقد ہونا ہے اس لیے اس کی مشق کے لیے ایجنسی کی ویب سائٹ پر ماک ٹیسٹ (مشقی ٹیسٹ) کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے، امیدوار فارم بھرنے کے بعد ویب سائٹ دیکھتے رہیں ماک ٹیسٹ کی تاریخوں کا اعلان ہوتے ہیںایک بار ضرور شریک ہوں تاکہ انھیں امتحان کی نوعیت سے واقفیت ہوجائے۔
درخواست دینے کی تاریخ : آن لائن فارم بھرنے کاآغاز ۱۰؍اگست ۲۰۲۱ء سے ہوچکا ہے فارم اور فیس بھرنے کی آخری تاریخ ۶؍ستمبر۲۰۲۱ء رات ۵۰۔۱۱ بجے تک ہے۔ جبکہ ۷؍ستمبر ۲۰۲۱ء تا ۱۲؍ستمبر ۲۰۲۱ء اگر آن لائن فارم بھرنے میں کچھ غلطی ہوگئی ہو تو اس کی درستگی کا موقع فراہم کیا جائے گا۔
فیس : جنرل امیدواروں کو1000روپئے ، او بی سی امیدواروں کو 500روپئے جبکہ ایس سی ، ایس ٹی ، معذور اور ٹرانس جینڈر امیدواروں کو250 روپئے فیس بھرنا ہوگی۔
پرچہ اول (PAPER I) کی تیاری کیسے کریں ؟
نیٹ اور سیٹ امتحان کے دو نوں پرچوں میں سے پہلا پرچہ تدریسی و تحقیقی رجحان (Teaching & Research Aptitude) کی جانچ کے لیے ہوتا ہے۔ بنیادی طور پر اسے امیدوار کی توجیہی قابلیت (Reasoning Ability) ، انگریزی فہم و ادراک (Comprehension)،منفرج سوچ (Divergent Thinking) اور عمومی معلومات (General Awareness) کی جانچ کے لیے ترتیب دیا جاتا ہے۔ غلط جواب پر کوئی منفی مارکنگ نہیں ہوتی جبکہ تمام پچاس سوالات لازمی ہوتے ہیں۔ پرچہ اول تدریسی جانچ، تحقیقی جانچ، ادراک،ترسیل، ریاضیاتی توجیہات، منطقی توجیہات، اعداد شمار کا بیان، انفارمیشن و کمیونکیشن ٹیکنالوجی (کمپیوٹر)، عوام و ماحول، اعلیٰ تعلیمی نظام(حکومت، پالیسی اور انتظامیہ ) حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
بازار میں اس کے لیے خاص کتابیں دستیاب ہیں تمام امیدواروں کو چاہے ان کا دوسرا پرچہ کسی بھی مضمون کا ہو پہلا پرچہ لازمی طور پر یہی ہوتا ہے۔ اس پرچے کی تیاری کے لیے کتابوں کے علاوہ باقاعدہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جس کے لیے چند اہم نکات درج ذیل ہیں۔
اسٹڈی پلان تیار کریں : پرچہ اول کے تمام سیکشن (حصوں) کے مطالعے کے لیے بازقاعدہ ایک ٹائم ٹیبل ترتیب دیں اور ہر دن کا ایک نشانہ مقرر کریں۔
نصاب کا مکمل ادراک : یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) نے اپنی ویب سائٹ پر نصاب کی مکمل معلومات فراہم کی ہے امیدوار باریک بینی سے مطالعہ کریں اور اہم اسباق اور تصورات کو سمجھ لیں۔
زیادہ سے زیادہ سوالات حل کرنے کی کوشش کریں : گذشتہ برسوں کے پرچوں میں پوچھے گئے زیادہ سے زیادہ سوالات حل کرنے کی کوشش کریں۔ اس سے آپ کی سوالات حل کرنے کی رفتار میں تیزی اور درستگی آئے گی۔
اپنے کمزور پہلوؤں پر محنت کریں : آپ کن شعبوں میں کمزور ہیں مشقی امتحان (Mock Test) اور گذشتہ پرچوں کو حل کرنے سے آپ کو اس کا اندازہ ہوجائے گا۔ ان پر زیادہ محنت کیجیے، بار بار پڑھیے اور زیادہ سے زیادہ وقت دیجیے۔
نظمِ وقت (Time Management): امتحان کے دوران وقت کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ آپ کو تین گھنٹے میں ایک سو پچاس سوالات حل کرنے ہیں۔ کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ ہونے کی بناء پر آپ کو صرف صحیح جواب پر نشان لگانا ہوگا۔ آپ جتنی مرتبہ چاہیں اپنے جوابات تبدیل کرسکتے ہیں۔ وقت مکمل ہونے سے قبل آپ ٹیسٹ ختم نہیں کرسکتے ۔ مشقی سوالات حل کرنا آپ کو وقت کا بہتر استعمال سکھاتا ہے۔
بہت سے طلبہ سے بات کرنے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ دوسرا پرچہ چونکہ ان کے پوسٹ گریجویشن کے مضمون کا ہوتا ہے اس لیے عموماً اس میں انھیں کم پریشانی ہوتی ہے لیکن پہلا پرچہ بعض امیدواروں کی سمجھ میں بھی نہیں آتا۔ اس کی ایک اہم وجہ ناقص منصوبہ بندی اور لاپرواہی ہے۔ پہلے پرچے کی تیاری کسی بھی اہلیتی امتحان کے لیے دستیاب کتاب کی مدد سے کی جا سکتی ہے بالخصوص بی ایڈ اور پی ایچ ڈی کے اہلیتی امتحانوں کے لیے دستیاب کتابیں اہم رول اداکرتی ہیں۔
آن لائن امیزون وغیرہ پر بھی کئی مضامین کی کتابیں موجود ہیں جو گھر بیٹھے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ بہتر ہے کہ پرچہ اول کی کتاب ہر امیدوار لازمی طور پر حاصل کرلے اور اس سے تیاری کرے۔ مزید ویب سائٹ پر موجود مشقی امتحان (Mock Test)کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ ایسے تمام امیدوار جو اس امتحان میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں انھیں باقاعدہ منصوبہ بند پڑھائی ، صحیح سمت میں اور مستقل مزاجی کے ساتھ کرنی چاہیے ، کامیابی یقیناً ان کے قدم چومے گی۔
(مومن فہیم احمد لیکچرر صمدیہ جونیر کالج، بھیونڈی ) ایم کام ،ایم اے (معاشیات )، ایم اے (ایجوکیشن) NET، بی ایڈ
Join Urdu Duniya WhatsApp Group



