
سلام بن عثمان
60 کے دہائی میں ٹیم انڈیا کو ایسا وکٹ کیپر ملا۔ جس نے ہندوستان ہی نہیں بلکہ بیرونی ملک میں بھی اپنے جارحانہ کھیل کے انداز سے، وکٹ کے پیچھے اور وکٹ کے آگے آکر دھواں دھار بلے بازی کرتے ہوئے ایک بہترین ریکارڈ بنایا اور دنیا کے بڑے وکٹ کیپر میں شمار ہوا۔ اس 60 کے دہائی میں وکٹ کے پیچھے ایلن ناٹ اور راڈنی مارش کی طوطی بولتی تھی۔ مگر فرخ انجینئر وکٹ کے پیچھے دونوں طرف چلانگ لگا کر کیچ لیا کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے فرخ انجینئر کا بھی شمار بڑے کھلاڑیوں میں ہونے لگا۔ اور بہترین وکٹ کیپر ٹیم انڈیا کو ملا۔
فرخ انجینئر 25 فروری 1938 کو ممبئی کے پارسی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ والد مینک شاہ پیشہ سے ڈاکٹر تھے۔ والدہ مینی گھریلو خاتون تھی۔ فرخ کی شروعاتی تعلیم ماٹونگا کے ڈان باسکو اسکول میں ہوئی۔ اس کے بعد ماٹونگا کے پوددار کالج سے ڈگری حاصل کی۔ فرخ کو بچپن ہی سے کھیل میں دلچسپی تھی جس کی خاص وجہ والد ٹینس کھیلا کرتے تھے۔ بڑے بھائی بھی کرکٹ کلب سے منسلک تھے۔ فرخ کے بھائی اکثر انھیں کہتے تم بھی کرکٹ کھیلو۔ مگر فرخ نے اپنا ذہن بدلا اور پائلٹ بننے کی طرف رخ کیا۔
والد نے بھی فرخ کی دلچسپی دیکھتے ہوئے ممبئی کے فلائنگ کلب میں داخلہ کرایا۔ فرخ پائلٹ کے امتحان میں پاس بھی ہوگئے۔ مگر والدہ ناراض تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ فرخ بھی کرکٹر بنے۔ فرخ نے والدہ کی بات کو مانا اور کرکٹ کی طرف متوجہ ہوئے۔ ویسے بھی فرخ کو کرکٹ پسند تھا۔ فرخ نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا "کلاس میں اکثر مجھے دوستوں کے ساتھ باتیں کرنے کی عادت تھی۔ جس کی وجہ سے ایک روز کلاس ٹیچر نے مجھے ڈسٹر پھینک کر مارا اور میں نے اسے کیچ کر لیا۔
” ایک مرتبہ فرخ کے بھائی میچ دیکھنے کے لیے ممبئی کے برابون اسٹیڈیم لے گئے۔ وہاں انگلینڈ کی ٹیم آئی ہوئی تھی۔ ڈینس کیمپٹن باؤنڈری لائن پر فیلڈنگ کر رہے تھے۔ فرخ بار بار انھیں آواز دے رہے تھے۔ فرخ کی میٹھی آواز سے ڈینس کیمپٹن خوش ہوئے۔ انھوں نے چیونگم کا پیکٹ فرخ کو دیا۔ فرخ نے چیونگم کے پیکٹ کو بطور تحفہ کئی سال تک اپنے پاس رکھا۔
کالج کے دوران پوددار کالج ٹیم میں فرخ کو کھیلنے کا موقع ملا۔ والد نے فرخ کے کرکٹ کی طرف رجحان کو دیکھتے ہوئے دادر کے پارسی کالونی کے اسپورٹس کلب میں داخلہ کرایا۔ فرخ انجینئر دادر پارسی کالونی کلب میں بطور وکٹ کیپر تھے۔ ایک میچ میں بائیں طرف کھڑے رہ کر دو کھلاڑیوں کو اسٹمپ آؤٹ کرنے کا کارنامہ کر دکھایا جو بہت مشکل کام تھا۔ کلب میں مشہور ہوگئے۔
اس کے بعد کلب میں باقاعدہ ممبر بن گئے۔ فرخ نے وہاں کرکٹ کی باریکیوں کو سیکھا اور بعد میں ٹیم انڈیا کے بہترین کھلاڑی بن کر سامنے آئے۔ اس وقت فرخ کو ممبئی کی ٹیم میں موقع ملنا بہت مشکل تھا۔ کیونکہ اس وقت وکٹ کیپر کے علاوہ کچھ کھلاڑیوں نے اپنے بہترین کھیل سے اپنا مقام بنا لیا تھا۔ جن میں وکٹ کیپر نریندر تھمانے بھی تھے۔
1960 میں انگلینڈ کی ٹیم ہندوستان کے دورہ پر آئی ہوئی تھی۔ اس وقت کے کرکٹ بورڈ چیئرمین لالہ امرناتھ تھے۔ لالہ امرناتھ فرخ انجینئر کے کھیل سے بہت متاثر تھے۔ انھوں نے فرخ کا انتخاب کیا۔ فرخ انجینئر اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے کی پوری تیاری میں تھے۔
#فرخ #انجینئر برابون اسٹیڈیم میں مشق کے دوران راج سنگ ڈونگرپور کی ایک گیند کو کٹ کرنے کے وقت #گیند اچھل کر فرخ کے آنکھ کے پاس لگی۔ جس کی وجہ سے فرخ پہلا ٹیسٹ نہیں کھیل سکے۔ دوسرا ٹیسٹ کانپور میں کھیلا جانے والا تھا۔ فرخ انجینئر پوری طرح صحت یاب تھے۔
#کانپور #ٹیسٹ میں درمیانی بلے بازی کے لئے آئے اور بہترین 33 رنز بنائے اور ساتھ ہی وکٹ کے پیچھے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے #کیچ پکڑے۔ اس کے بعد سے #ٹیم #انڈیا کی پہلی پسند فرخ انجینئر بم گئے۔ انھیں کرکٹ کے میدان میں کئی نام سے پکارا جاتا تھا۔ کبھی ڈکرا فرخ، کبھی راکی سے پکارا جاتا تھا۔ 1963 میں انگلینڈ ٹیم پھر ایک مرتبہ ہندوستان کے دورہ پر آئی ہوئی تھی۔ فرخ انجینئر کی طبیعت ٹھیک نہیں ہونے کی وجہ سے ان کی جگہ پرانے وکٹ کیپر بدھی کندرن کو لیا گیا۔ کندرن فرخ کی وجہ سے ٹیم سے باہر تھے۔
مگر کندرن کو موقع ملا اور کندرن نے 192 #رنز بنا لیا۔ جس کی وجہ سے فرخ انجینئر کو ٹیم انڈیا میں واپسی کے لیے دشواری پیدا ہو گئی۔ مگر بعد کے ٹیسٹ میچ میں کندرن نے کوئی خاص کارکردگی نہیں دکھائی۔ جس کی وجہ سے فرخ انجینئر کی واپسی ہوئی۔ فرخ نے ذہن بدلا اور افتتاحی بلے بازی کو اہمیت دی۔ بورڈ نے بھی اجازت دی۔
فرخ انجینئر نے بہترین #وکٹ کیپنگ کے ساتھ بہترین بلے بازی کا مظاہرہ کیا۔ افتتاحی بلے بازی کے لیےفرخ انجینئر اور سنیل گواسکر کی جوڑی کو بہت سراہا گیا۔ 1967 میں جب ویسٹ انڈیز ٹیم انڈیا آئی اس وقت ان کے پاس بہترین تیز طوفانی گیند باز تھے۔
ان کے سامنے کھڑے رہنا بہت مشکل تھا۔ فرخ انجینئر کسی وجہ سے دو ٹیسٹ میچ نہیں کھیل سکے اور دونوں ٹیسٹ میچ میں ہندوستان کو ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ تیسرے ٹیسٹ میچ میں فرخ افتتاحی بلے بازی کے لئے میدان میں آئے اور لنچ کے پہلے انھوں نے سنچری بنائی۔ فرخ انجینئر نے ٹیم انڈیا کو ایک مستحکم پوزیشن دی۔ ساتھ ہی اپنے لیے مضبوط مقام بنایا۔
1967-70 میں فرخ انجینئر ایسے آل راؤنڈر بن کر سامنے آئے اور ایسی تاریخ رقم کی جسے بھلانا بہت مشکل ہے۔ فرخ انجینئر نے وکٹ کے پیچھے رہ کر دونوں طرف چھلانگ لگا کر کیچ کو پکڑا اور #اسٹیمپنگ کرتے ہوئے افتتاحی بلے بازی میں بھی کمال کر دکھایا۔ اس کے باوجود فرخ انجینئر کو 1971 میں ٹیم انڈیا سے اس لیے باہر رکھا گیا۔ جس کی وجہ تھی کے انھوں نے پورے سال فرسٹ کلاس کرکٹ نہیں کھیلا تھا۔ فرخ کو ٹیم انڈیا سے باہر کیا گیا۔ اس وقت بین الاقوامی سطح پر فرخ انجینئر کا نام بڑے وکٹ کیپر ایلن ناٹ اور راڈنی مارش کے ساتھ لیا جاتا تھا۔
1968-76 تک انگلینڈ میں لنکنشائر کی طرف سے کھیلا۔
فرخ انجینئر نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ انگلینڈ کے خلاف یکم دسمبر 1960 میں کھیلا۔
آخری ٹیسٹ میچ 23 جنوری 1975 کو ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا۔
پہلا یک روزہ میچ 13 جنوری 1974 کو انگلینڈ کے خلاف کھیلا۔
آخری یک روزہ میچ 14 جون 1975 کو نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلا۔
46 ٹیسٹ میچوں میں 2611 رنز بنائے جس میں دو سنچری اور 16 نصف سنچریاں رہی۔ جس میں بہترین کارکردگی 121 رنز۔ بطور وکٹ کیپر 66 کیچ اور 16 اسٹیمپنگ کیے۔
5 یک روزہ میچ میں 114 رنز بنائے۔ جس میں ایک نصف سنچری رہی۔ 51 ناٹ آؤٹ کے ساتھ ایک اسٹمپ اور تین کیچ رہے۔
335 فرسٹ کلاس میچوں میں 13436 رنز بنائے۔ جس میں 13 سنچریاں اور 69 نصف سنچریاں کے ساتھ 192 بہترین اسکور۔ 704 کیچ کے ساتھ 120 اسٹیمپنگ رہی۔
فرخ انجینئر ایسے وقت میں کرکٹ کے میدان سے منسلک ہوئے اس وقت بطور وکٹ کیپر نریندر تھمانے اور بدھی کندرن شہرت کی بلندی پر تھے۔ مگر فرخ بھی کسی سے کم نہیں تھے انھوں نے اپنی محنت اور مشقت کے ذریعے فرسٹ کلاس کرکٹ میں بہترین کارکردگی کے ساتھ جارحانہ کھیل پیش کیا۔ جس کی وجہ سے کرکٹ بورڈ کو ان کا کھیل بہت پسند آیا۔
اور انھیں ٹیم انڈیا میں لینا پڑا۔ فرخ انجینئر کے مد مقابل بدھی کندرن ایک اچھے بلے باز تھے مگر وکٹ کیپنگ میں مہارت نہیں تھی۔ فرخ انجینئر وکٹ کیپر کے ساتھ ایک بہترین افتتاحی بلے باز بھی تھے۔ فرخ انجینئر ان کی اسٹائیلسٹ بلے بازی اور وکٹ کیپنگ سے جانے جاتے تھے۔
Join Urdu Duniya WhatsApp Group


