بین ریاستی خبریںجرائم و حادثات

میرٹھ: 2معصوم بچوں کا وحشیانہ قتل، جنگل میں ملی لاش ، علاقے میں دہشت

میرٹھ ، ۲۹؍اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)میرٹھ کے کٹھور علاقہ میں دو معصوم بچوں کے وحشیانہ قتل کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ دونوں ہفتے کی شام سے لاپتہ تھے۔ صبح جنگل سے خون میں لت پت لاش ملی ہے۔ پولیس نے دونوں کی لاشیں قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے ۔جائے وقوعہ کے مناظر دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ دونوں بچوں کو پہلے بری طرح پیٹا گیا اور پھر چاقوؤں اور تیز دھار ہتھیاروں سے حملہ کر کے وحشیانہ طریقے سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

پولیس نے معاملہ کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ شواہد اکٹھے کرنے کے لیے فرانزک ٹیم بھی موقع پر پہنچ گئی ہے۔اطلاع کے مطابق میرٹھ کے کٹھور تھانہ علاقہ کے شاہجہاں پور کے رہائشی صادق (14) ولد جان عالم اور امن (13) ولد مہاراج ہفتہ کی شام سا ڑھے پانج بجے گھر سے نکلے۔ اس کے بعد دونوں لڑکے گھر نہیں پہنچ سکے۔ اہل خانہ نے دونوں کو بہت تلاش کیا مگر ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ۔تاہم دونوں لڑکوں کی لاش اتوار کی صبح کٹھور تھانہ علاقہ کے فتح پور نارائن گاؤں کے جنگل میں گنے کے کھیت کے قریب سے برآمد ہوئی ۔ واقعہ کے بعد سی او کٹھور برجیش سنگھ فورس کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور پولیس حکام کو بھی واقعہ سے آگاہ کیا۔

جائے وقوعہ کے مناظر سے پتہ چلتا ہے کہ صادق اور امن کو بے دردی سے قتل کیا گیا ہے۔ معصوم صادق کے جسم پر تیز دھار اسلحہ کے نشانات ملے ہیں۔ جبکہ امن کے جسم پر چاقو کے نشانات ہیں۔ دونوں کے قتل کے بعد اہل خانہ غم سے نڈھال ہیں ۔ صادق کے والد مزدوری کرتے ہیں ، جبکہ امن کے والد گیس ایجنسی میں ملازم ہیں۔

کشیدگی کے پیش نظر شاہجہاں پور میں پولیس فورس بھی تعینات کردی گئی ہے۔ دونوں کی لاشوں کے درمیان تقریباً 25 میٹر کا فاصلہ تھا۔ جائے وقوعہ کے مناظر سے اخذ ہوتا ہے کہ قاتلوں نے پہلے دونوں کو بری طرح مارا پیٹا ، پھر انھیں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ دونوں نے بچاؤ کے لیے مزاحمت بھی کی ہوگی،کیونکہ مٹی میں بھی نشانات ملے ہیں۔ امن کی لاش صادق کی نعش سے کچھ فاصلے پر ملی۔ اس صورت حال میں پولیس کا ماننا ہے کہ امن فرار ہوا ہوگا، جسے گھیر لیا گیا اور 25 میٹر دور قتل کردیا گیا۔ قتل کی کوئی وجہ ابھی تک سامنے نہیں آسکی ہے ،پولیس ہرزاویہ سے اس کی تفتیش کر رہی ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button