
سرورقصحت اور سائنس کی دنیا
بداحتیاطی،بیشتر بیماریوں کا سبب-ہر سال ذیابیطس کے لاکھوں مریض پاوں کٹوا بیٹھتے ہیں
ڈاکٹرنازش اصلاحی
کہتے ہیں پرہیز علاج سے بہتر ہے، لیکن افسوس اس کہاوت کی حقیقت کا ادراک ہمیں بیشتر اوقات اس وقت ہوتا ہے، جب پانی سر سے گزر جائے۔ ہمیں زندگی میں بے شمار بیماریوں سے واسطہ پڑتا ہے اور اکثر ہی ایسا ہوتا ہے کہ بہت سی بیماریاں ہمیں محض ہماری لاپرواہی اور غفلت کی وجہ سے لاحق ہوجاتی ہیں، تاہم اس کے بجائے اگر ہم محض تھوڑی سی احتیاط سے کام لیں تو بے شمار بیماریوں سے محفوظ رہ کر نہ صرف خود کو بلکہ اپنے اہل خانہ کو بھی پریشانی سے بچا سکتے ہیں۔
ذیل میں ہم مفاد عامہ کے لیے کچھ انتہائی مہلک بیماریوں کے بارے میں بتارہے ہیں کہ وہ کون سی احتیاطی تدابیر ہیں جن کو اختیار کرکے ہم ان بیماریوں سے بچ سکتے ہیں۔ ان بیماریوں میں پیلا یرقان یا ہیپاٹائٹس اے اور ای، کالا یرقان یعنی ہیپاٹائٹس بی اور سی، ملیریا و ڈینگی بخار اور ایڈز شامل ہیں۔ آئیے ذیل میں ان بیماریوں سے بچاو کے لیے احتیاطی تدابیر کے بارے میں آپ کو بتاتے ہیں۔
ایڈز (Aids)
غیر فطری اور غیر محفوظ جنسی رویے ایڈز کا باعث بن سکتے ہیں۔
استعمال شدہ سرنج کا استعمال انتہائی خطرناک ہے، ٹیکہ صرف انتہائی ضرورت کے وقت اور مستند ڈاکٹر سے لگوائیں۔
خون اور اجزائے خون لگوانے سے پہلے ایڈز کا ٹیسٹ ضرور کروائیں۔
سرنج کے ذریعے نشہ کرنے سے ایڈز کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
خون آلود اشیاء اور استعمال شدہ سرنج سے خود کو بچائیں۔
جسم پر نقش و نگار مت بنوائیں۔
کان اور ناک چھدوانے میں انتہائی احتیاط برتیں۔
دوسروں کی ذاتی استعمال کی اشیاء استعمال مت کریں۔یاد رکھیے ایڈز ناقابل علاج ہے۔
پیلا یرقان (Hepatitis A,E)
ہر کام سے پہلے اور بعد میں ہاتھ صابن سے دھوئیں خصوصاً ٹوائلٹ (Toilet) استعمال کرنے کے بعد۔
پانی ابال کر پئیں اور بازار کے مشروبات استعمال نہ کریں۔
جسمانی صفائی کا خاص خیال رکھیں اور اپنا تولیہ علیحدہ رکھیں۔
اچھی طرح پکی ہوئی اور اچھی طرح محفوظ خوراک استعمال کریں۔
مریض کے فضلے کو انتہائی احتیاط سے تلف کریں۔
جس علاقے میں یرقان پھیلا ہو وہاں مزید حتیاط کریں۔
کالا یرقان (Hapatitis B,C)
ٹیکہ لگوانے سے پرہیز کریں، اگر بہت ضروری ہو تو ہمیشہ نئی سرنج سے ٹیکہ لگوائیں۔
حجام سے شیو مت کروائیں اور پھٹکری کا استعمال نہ کریں۔
کان، ناک چھدوانے اور جسم گندھوانے میں بہت احتیاط کریں۔
دوسروں کی ذاتی اشیاء مثلاً شیو اور دانت صاف کرنے کا سامان، ریزر، ٹوتھ برش، قینچی، کنگھا اور ناخن تراش وغیرہ قطعاً استعمال نہ کریں۔
ملیریا اور ڈینگی بخار (Malaria & Dengue Fever)
گھر کے آس پاس پانی کھڑا نہ ہونے دیں، جوہڑوں پر مچھر مار سپرے ضرور کریں اور گڑھوں کو مٹی سے بھر دیں۔
گھر میں جالی والے دروازے ضرور لگوائیں۔
صاف پانی اور کھانے پینے کی اشیاء ڈھانپ کر رکھیں۔
رات کے وقت پورے بازوئوں والی قمیض پہنیں اور جسم کو اچھی طرح ڈھانپیں۔
کمرے سے باہر سونے کی صورت میں مچھر دانی استعمال کریں۔
مچھر نہ صرف ملیریا کا باعث بنتا ہے بلکہ ڈینگی بخار اور متعدد دوسری بیماریوں کی وجہ بھی ہے۔
گھر کو صاف ستھرا رکھیں اور کوڑے دان کو ڈھانپ کر رکھیں۔
کچرے کو اچھی طرح تلف کریں اور گھر کے گردونواح کو بھی صاف رکھیں۔
جسم پر مچھر بھگانے والا لوشن استعمال کریں۔
متعدی خارش
دوسروں کے کپڑے مت استعمال کریں۔
کپڑوں کو ہمیشہ دھوپ میں سکھائیں۔
مریض کے کپڑوں کو گرم پانی میں دھوئیں، سکھانے کے بعد کپڑوں کو الٹا اور سیدھا دونوں طرف سے استری کریں۔
جسمانی صفائی کا خیال رکھیں۔
ہرسال ذیابیطس کےلاکھوں مریض پاوں کٹوابیٹھتے ہیں۔
وفاقی وزارت صحت، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور بقائی انسٹی ٹیو ٹ آف ڈائی بیٹالوجی اینڈ انڈ و کئیرائینالوجی (BIDE) کے باہمی اشتراک سے کیے گئے نیشنل ذیابیطس سروے آف انڈیا کے مطابق ہندوستان میں شوگر کے مریضوں کی شرح22 فیصد سے بڑھ کر26.3 فیصد ہو گئی ہے، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ان میں سے19.2 فیصد مریض تو اپنے مرض سے واقف ہیں لیکن 7.1فیصد مریضوں کومعلوم ہی نہیں کہ وہ کس مرض میں مبتلا ہیں۔
اسی سروے میں یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ شہروں میں شوگر کے مریضوں کی شرح (Urban Diabetes) 28.3 فیصد جبکہ دیہی علاقو ں میں یہ شرح 25.3 فیصد ہے۔ این ڈی ایس پی فروری 2016ء سے اگست 2017ء تک ملک بھر میں کیا جانے والا دوسرا سروے ہے، جس میں کل سترہ ٹیموں نے حصہ لیا اور تمام ٹیم ممبرز کو سروے سے قبل باقاعدہ پیشہ وارانہ تربیت فراہم کی گئی تاکہ سروے میں تمام عالمی معیار کو ملحوظ خاطر رکھا جا سکے اور یہی وجہ ہے کہ سروے کا معیار دیکھتے ہوئے British Medical General نے 2018ء کے ایڈیشن میں اس سروے کو شائع کیا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق 2010ء سے2030ء تک پوری دنیا میں شوگر کے مرض میں کل 67% کی شرح تک اضافہ ممکن ہے اوریہی وجہ ہے کہ ہر 6 سیکنڈ کے بعد دنیا کے کسی کونے میں مرنے والا فرد شوگرکا مریض ہوتا ہے اور یہ اموات قبل از وقت اموات (Pre-Mature Death)تصورکی جاتی ہیں ۔ ذیابیطس انسانی جسم کے تمام ا عضاء کو متاثر کرتی ہے، اس میں دل ، دماغ ، گردے ،خون میں کولیسٹرول کی مقدار میں اضافہ اور اعصابی نظام سرفہرست ہیں۔
اعصابی نظام کے متاثرہونے کی وجہ سے پائوں کی بیماری (Foot Disease)، جس میں پائوں کے زخم (Ulcer)، سوزش (Infection)شامل ہیں،کا مناسب اور بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں پائوں یا ٹانگ (Lower Exptremity Amputation)کاٹ دی جاتی ہے۔ہر بیس سیکنڈ کے بعد دنیا میں شوگر کے مرض میں مبتلا مریضوں میں سے ایک فرد اپنی ٹانگ کھو بیٹھتا ہے، یاد رہے کہ چند سال قبل تک یہ شرح ہر تیس سیکنڈ تھی جو اب بڑھ کر بیس سیکنڈ ہوگئی ہے۔ شوگر اور اس سے پیدا ہونے والے گھمبیر مسائل جیسے پائوں کی بیماری وغیرہ سے متعلق ڈاکٹرز ، پالیسی ساز ادارے ، عوام اور معاشرے، میڈیا اورسول سو سائٹی میں آگاہی اور شعوربیدار کرنے کی ضرورت ہے



