
اراضی رجسٹریشن کی قدر کے لحاظ سے ٹیکس وصول کرنے کا منصوبہ۔ فی الحال مکان کرایہ کے تحت ٹیکس وصولی
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) شہر حیدرآباد کے جائیداد ٹیکس میں اضافہ ہونے والا ہے۔ گھر کے کرایوں کے لحاظ سے تعین کئے جانے والے ٹیکس نظام کو ختم کرتے ہوئے اراضی رجسٹریشن قدر کے لحاظ سے نیا ٹیکس نظام متعارف کرایا جارہا ہے۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے منظوری حاصل کرنے کے لئے حکومت کو مکتوب روانہ کیا گیا ہے۔
محکمہ بلدی نظم و نسق کے عہدیداروں نے بتایا کہ اس نئے نظام پر عمل آوری کے لئے حکومت سے بہت جلد منظوری حاصل ہوگی۔ نئے جائیداد ٹیکس نظام کا جائزہ لینے کے لئے ریاستی حکومت نے گزشتہ سال دسمبر میں ہی مقامی اداروں کو ہدایت دی تھی۔ نئے نظام پر عمل آوری سے جی ایچ ایم سی کی جائیداد ٹیکس آمدنی میں 500 کروڑ روپے کا اضافہ ہونے کا تخمینہ کیا جارہا ہے۔
فی الحال گریٹر حیدرآباد کو جائیداد ٹیکس کی وصولی کے لئے A,B,C,D چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان حصوں میں 3 مہینوں کے کرائے کا جائزہ لیتے ہوئے جائیداد ٹیکس کا تعین کیا جاتا ہے۔ اس کے لحاظ سے اہم سڑکوں، تجارتی شاہراہوں، کالونیوں اور بستیوں کیلئے علیحدہ علیحدہ جائیداد ٹیکس مقرر کیا جاتا ہے۔ قانون کے مطابق ہر پانچ سال میں ایک مرتبہ جائیداد ٹیکس میں اضافہ کیا جانا چاہئے۔
تاہم مختلف وجوہات سے گریٹر حیدرآباد میں گزشتہ 15 سال سے جائیداد ٹیکس میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ جائیداد ٹیکس میں اضافہ کرنے کے لئے سابق میئر جی رام موہن نے حکومت کو سفارش کی تھی۔ جی ایچ ایم سی کے حدود میں فی الحال 20 لاکھ تعمیرات ہیں۔ ٹیکس کے دائرے میں 17 لاکھ تعمیرات شامل ہیں جن کے ذریعہ گزشتہ سال 1700 کروڑ روپے جائیداد ٹیکس وصول ہوا تھا۔
سال 2021-22 میں 1850 کروڑ کا جائیداد ٹیکس وصول کرنے کا جی ایچ ایم سی نے نشانہ مختص کیا ہے۔ نئے ٹیکس نظام سے جائیداد ٹیکس کی آمدنی 2,350 کروڑ روپے تک بڑھانے کی بلدیہ کے عہدیدار منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ اس نئے ٹیکس نظام پر اعتراضات بھی ہیں۔ اراضی رجسٹریشن قدر کے حساب سے جائیداد ٹیکس وصول کرنے پر بستیوں، کالونیوں اور گیٹیڈ کمیونٹیز کے ٹیکس میں کوئی فرق نہ رہنے کا دعوی کیا جارہا ہے اور اس کو غریب اور متوسط طبقہ پر اضافی مالی بوجھ تصور کیا جارہا ہے۔



