
نیویارک، ۵؍ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یہ کہانی ہے ان نو سیاہ فام طلبہ کی جن کا ایک جرات مندانہ قدم، امریکہ کے تعلیمی نظام میں نسلی تفریق کے خاتمے کی جدو جہد کا سنگِ میل ثابت ہوا۔ بظاہر کسی اسکول یا کالج میں داخلہ لینا معمول کی ایک کارروائی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن 1950 کی دہائی کے امریکہ میں جب تعلیمی اداروں اور سماجی سطح پر نسلی تفریق قوانین اور ضابطوں کی شکل میں برقرار تھی، سیاہ فام طلبہ کہ فیصلے سے ہنگامہ برپا ہو گیا تھا.یہ ہنگامہ ایک ایسے تنازعے کی شکل اختیار کر گیا تھا جس کی بنا پر امریکہ کے عسکری ادارے اور وفاقی و ریاستی حکومت مد مقابل آ گئی تھیں۔
محض چند طلبہ کا کسی تعلیمی ادارے میں داخلہ تاریخ کا یادگار باب کیسے بنا؟ اسے سمجھنے کے لیے امریکہ میں نسلی بنیادوں پر انتظامی اور قانونی تفریق کی تاریخ کو سمجھنا ضروری ہے۔سن 1950 کی دہائی میں جو کچھ ہوا اسے سمجھنے کے لیے تقریباً ساٹھ برس پیچھے جانا پڑے گا۔لوئزیانا میں 1892 میں ہومر پلیسی نامی مسافر نے ٹرین میں سیاہ فاموں کے لیے مخصوص حصے میں سفر کرنے سے انکار دیا۔ اس کا یہ انکار ریاست لوئزیانا کے اس وقت کے قوانین کی خلاف ورزی تھی۔چار سال بعد پلیسی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔
اس مقدمے کو امریکہ کی عدالتی تاریخ میں پلیسی بنام فرگوسن کے نام سے جانا جاتا ہے۔سپریم کورٹ نے 18 مئی 1896 کو اس مقدمے میں جو فیصلہ سنایا اس میں نسلی بنیادوں پر جداگانہ سلوک اور تفریق یعنی سیگریگیشن کے لیے ’جداگانہ لیکن برابر‘ کا ایک نظریہ پیش کیا گیا۔اس فیصلے میں قرار دیا گیا کہ سیاہ فاموں کے لیے جداگانہ برتاؤ اور انتظام آئین کے خلاف نہیں ہے۔حالاں کہ امریکہ میں غلامی کا خاتمہ آئین میں تیرہویں ترمیم کے منظوری آبعد 1865 میں ہوا تھا۔
اس کے بعد چودھویں ترمیم نے سیاہ فام امریکیوں کو شہریت کا حق دیا اور پندرہویں ترمیم انہیں ووٹ کا حق دینے کے لیے کی گئی۔لیکن لائبریری ا?ف کانگریس کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق 1873 سے 1883 تک امریکہ کی سپریم کورٹ نے کئی ایسے فیصلے دیے جن کی وجہ سے قانونی طور پر سفر، عوامی مقامات اور تعلیمی اداروں سے لے کر جیلوں تک نسلی تفریق قانونی طور پر برقرار رہی۔
1896 کے اس فیصلے نے نسلی تفریق یا سیگریگیشن کو باقاعدہ جواز فراہم کردیا۔لیکن پلیسی بنام فرگوسن مقدمے کے فیصلے میں جسٹس جان مارشل ہرلن نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا تھا کہ نسلی تفریق کا قانونی جو فام امریکیوں کو کم تر شہری بنا دے گا۔ ان کی یہی دلیل بعد میں شہری حقوق کے لیے ایک تاریخی فیصلے کی بنیاد بنی۔’جداگانہ مگر برابر‘ کا یہ تصور امریکہ میں 1954 تک برقرار رہا لیکن 1954 میں سپریم کورٹ نے اس پر نظر ثانی کی۔
سن 1954 میں امریکہ کی سپریم کورٹ نے ’براؤن بنام بورڈ اآف ایجوکیشن‘ مقدمے میں ایک تاریخی فیصلہ دیا۔ اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے امریکہ کے تعلیمی اداروں میں نسلی بنیادوں پر تفریق یا سیگریگیشن کو غیر قانونی قرار دیا۔لیکن اس عدالتی فیصلے سے بہ یک جنبشِ قلم تعلیمی اداروں میں یہ تفریق ختم نہیں ہوئی۔ اس کے بعد جدوجہد کا ایک اور دور شروع ہوا جس میں آرکنسا کے ان نو سیاہ فام طلبہ نے پہلا قدم اٹھایا جو امریکہ میں شہری حقوق کی تاریخ کا ایک باب بن گیا۔سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کے باوجود خاص طور پر امریکہ کی جنوبی ریاستوں میں اس پر عمل درآمد میں مزاحمت کی جارہی تھی۔



